مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 401

مکتوبات احمد لدها جلد دوم ہے اور خدا کا کلام غلطی میں جاتا۔ میرا یہ حال ہے کہ ایک دنیا۔ ہے اور خدا کا کلام غلط نہیں جاتا۔ میرا یہ حال ہے کہ اگر دنیا کے تمام بادشاہ متفق ہو کر ایک وعدہ کریں تو میں اس وعدہ کو پھر یقینی نہیں سمجھتا کیونکہ ممکن ہے کہ قبل ایفائے وعدہ کے وہ لوگ مر جائیں اور اس کے ایفا پر قادر نہ ہوسکیں ۔ وہ مجبور ہیں مگر خدا تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس راہ سے اور کس طور سے ان عموم سے آپ کو نجات دے گا اور نہ ابھی تک یہ معلوم ہے کہ وہ وقت کب ہے لیکن کسی قدر مدت کی بات ہے ۔ خداوند قادر کی طرف سے یہ وعدہ ہے ۔ وَالْكَرِيمُ إِذَا وَعَدَوَفَا اس لئے آپ جوانمردی سے اس ذوالجلال کے وعدے کے منتظر ر ہیں اور کسی کی بے التفاتی پر کچھ بھی پرواہ نہ کریں جس طرح بارش نا معلوم آتی ہے۔ نہیں معلوم ہوتا کہ کب بادل ہوگا اور کب مینہ برسے گا۔ اسی طرح خدا کا فضل بھی چور کی طرح آتا ہے۔ پورے استقلال اور استقامت سے منتظر رہنا چاہئے بلکہ بہت خوش رہنا چاہئے کہ خدا کا وعدہ ہے نہ انسان کا۔ اگر آپ دیکھیں کہ میں آگ میں پڑ گیا ہوں یا پڑتا ہوں تب بھی آپ خوش رہیں کیونکہ جس نے یہ آگ پیدا کی ہے وہ ایک دم میں اس کو بجھا سکتا ہے ۔ دنیا میں میں اس بات کو خوب سمجھتا ہوں کہ کیونکر وہ ہمارا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے اس لئے میں آگ میں بھی پڑ کر اس کو بہشت تصور کرتا ہوں ۔ تمام دکھ اس بات سے ہوتے ہیں جب انسان نہیں جانتا کہ یہ تکلیفیں کیوں آتی ہیں؟ اور کیونکر دور ہو سکتی ہیں؟ مگر جب خدا تعالیٰ کی آواز میں خبر دیتی ہیں کہ یہ تکلیفیں اس کی طرف سے ہیں اور اس کے ارادے کے ساتھ معاً نیست و نابود ہو جاتی ہیں تو کیوں غم کیا جائے ۔ باقی خیریت ہے۔ اس وقت قادیان کے چاروں طرف طاعون ہے قریباً دو کوس کے فاصلہ پر اور قادیان اس وقت ایک کشتی کی طرح ہے جس کے اردگر دسخت طوفان ہے اور وہ دریا میں چل رہی ہو۔ ہر ایک ہفتہ میں شاید ہیں ہزار کے قریب آدمی مر جاتا ہے خدا نے ان شکوک کو دور کر دیا کہ اس وقت عام طاعون پھیلے گی ۔ ۳ را پریل ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار مرز اغلام احمد چلا اخبار الحکم ۲ فروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۴