مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 398
مکتوبات احمد ۳۹۸ جلد دوم مکتوب نمبر ۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ نقد مرسلہ مکرم مجھ کول گیا۔ خدا تعالی متواتر خدمات کے عوض میں آپ کو متواتر اپنے فضل اور جزا سے خوش کرے، آمین ثم آمین ۔ کتاب تریاق القلوب چھپ رہی ہے ابھی میں نہیں کہہ سکتا کہ کب ختم ہو شاید اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دو ہفتہ تک ختم ہو جائے یہ آپ کے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کہ مشکلات کے وقت میں آپ کی طرف سے مدد پہنچتی ہے ۔ اس ملک میں سخت قحط ہو گیا ہے اور اب تک بارش نہیں ہوئی ۔ اب کی دفعہ ابتلا کا سخت اندیشہ ہے کیونکہ ہمارے سلسلہ کے اخراجات کا یہ حال ہے کہ علاوہ اور خرچوں کے دوسو روپیہ ماہوار کا آٹا ہی آتا تھا۔ اب میں خیال کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ کا آئے گا اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک چلے گا اور دوسرے اخراجات بھی اور مہمان داری کے ہوتے ہیں ۔ وہ بھی اس کے قریب قریب ہیں ۔ چنانچہ ایندھن یعنی جلانے کی لکڑی وغیرہ غلہ کی طرح کمیاب ہو گئی ہے اور ایسی کمیاب ہے کہ شاید اب کی دفعہ ڈیڑھ سو یا دو سو روپیہ ما ہوا راسی کا خرچ ہو۔ میں ڈرتا ہوں کہ وہی وقت نہ آگیا ہو جو کہ احادیث میں پایا جاتا ہے کہ ایک دفعہ مسیح موعود اور اس کی جماعت پر قحط کا سخت اثر ہوگا ۔ سوحیرت ہے کہ کیا کہا جائے ۔ اگر دعا کے لئے وقت ملے تو دعا کروں ۔ ابھی تک ہماری جماعت میں سے اہلِ استطاعت میں سے ایک آپ ہیں جو حتی الوسع اپنی خدمات میں تعہد رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ یا تو نادار ہیں یا سچا ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ لیکن ہمارے مرنے کے بعد بہت سے لوگ پیدا ہو جائیں گے کہ کہیں گے اگر وہ وقت پاتے تو تمام مال اور جان سے قربان ہو جاتے ۔ مگر وہ بھی اس بیان میں جھوٹے ہوں گے کیونکہ اگر وہ بھی اس زمانہ کو پاتے تو وہ بھی ایسے ہی ہو جاتے ۔ اللہ تعالیٰ دلوں میں سچا ایمان بخشے ۔ خدا کے مامور جو آسمان سے آتے ہیں وہ اپنی جماعت کے ساتھ خرید اور فروخت کا سا معاملہ رکھتے ہیں۔ لوگوں سے ان کا چند روزہ مال لیتے ہیں اور جاودانی مال کا ان کو وارث بناتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان مشکلات کے وقت میں ایک اشتہار شائع کروں تاہر یک صادق کو ثواب کا موقع ملے اور اس میں کھلے کھلے طور پر آپ کا ذکر بھی کردوں کیونکہ اب سخت ضرورت کا سامنا