مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 33
مکتوبات احمد ۳۳ جلد دوم کہا کہ خدا تجھے اس خدمت کا بدلہ دیوے۔ آج آپ کا خط پڑھنے کے ساتھ میرے دل میں پختہ طور پر یہ جم گیا کہ وہ ہاتھ پکڑنے والا جس سے رفع تردد ہوا، آپ ہی ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے خواب میں ہاتھ پکڑنے والے کیلئے دعا کی۔ ایسا ہی برقت قلب خط کے پڑھنے سے آپ کیلئے منہ سے دلی دعا نکل گئی ۔ فَمُسْتَجَابٌ إِنْشَاءَ اللَّهُ تعالى اگر یہ ممکن ہو میری تحریر پہنچنے پر ماہ بماہ تین سو تک آپ بھیج سکیں یہاں تک کہ چودہ سو پورا ہو جاوے تو یہ نہایت عمدہ بات ہے ۔ مگر اوّل دفعہ میں پانسو روپیہ بھیجنا ضروری ہے تا ضروری انتظام کیا جاوے۔ میرا ارادہ ہے کہ یہ کام ماہ رمضان میں جاری ہو جاوے۔ ایک شخص منشی رستم علی نام نے تین سو روپیہ ڈیڑھ سال کی میعاد پر قرضہ دینا کیا ہے اور بابو الہی بخش صاحب بھی کچھ دینا چاہتے ہیں ۔ سو جس قدر روپیہ دوسروں کی طرف سے بطور قرضہ آئے گا اُسی قدر آپ کو کم دینا ہوگا ۔ مگر اصل مدار اس قرضہ کا آپ کے نام پر رہا۔ میں نے آپ کا خط بابوا الہی بخش صاحب کے پاس لاہور میں بھیج دیا ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے انشراح صدر اور علو ہمت اور خلوص اور صدق سے میرے دوسرے دوست مطلع ہوں ۔ کل ایک خط با بو الہی بخش صاحب کا کسی شخص کی سفارش کے بارہ میں آیا ہے۔ سو وہ خط ارسال خدمت ہے۔ آپ بپابندی مصلحت جیسا کہ مناسب ہو، ہمدردی کام میں لاویں۔ اگر آپ کے اشارہ سے کسی مسلمان کی خیر اور بہتری متصور ہو اور خود وہ اشارہ خیر محض ہو ۔ فتنہ سے خالی ہو تو بلا شبہ موجب ثواب ہے کہ خَيْرُ النَّاسِ مَنْ يَنْفَعُ النَّاسَ۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ۲ رمتی ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد از قادیان