مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 32
مکتوبات احمد ۳۲ جلد دوم مکتوب نمبر ۲۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالی ۔ عنایت نامہ پہنچ کر باعث ممنونی ہوا مجھ کو آں مخدوم کے ہر ایک خط کے پہنچنے سے خوشی پہنچتی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں خالص دوستوں کا وجود کبریت احمر سے عزیز تر ہے اور آپ کا دین کیلئے جذبہ اور ولولہ اور عالی ہمتی ایک فضل الہی ہے جس کو میں عظیم الشان فضل سمجھتا ہوں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ جلشانہ آپ سے اپنے دین میں پہلے درجہ کی خدمتیں لیوے۔ حکیم فضل دین صاحب بھی بہت ہی عمدہ آدمی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے ۔ اگر ملاقات ہو تو آپ سلام مسنون پہنچا دیں ۔ ۲۵ را پریل ۱۸۸۷ء مکتوب نمبر ۲۱ خاکسار غلام احمد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی و مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالی ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج آپ کا عنایت نامہ پہنچ کر مضمون مندرجہ معلوم ہوا۔ مجھ کو بند و بست مطبع و دیگر مصارف کے بارے میں بہت کچھ فکر اور خیال تھا جو آپ کے اس مبشر خط سے سب رفع دفع ہوا ۔ جَزَاكُمُ اللهُ خير الجزاء واحسن اليكم في الدنيا والعقبى واذهب عنكم الحزن و رضى عنكم و ارضی ۔ آمین چند روز ہوئے میں نے اس قرضہ کے تردد میں خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک نشیب گڑھے میں کھڑا ہوں اور اوپر چڑھنا چاہتا ہوں ۔ مگر ہاتھ نہیں پہنچتا۔ اتنے میں ایک بندہ خدا آیا اُس نے اوپر سے میری طرف ہاتھ لمبا کیا اور میں اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر اوپر کو چڑھ گیا اور میں نے چڑھتے ہی