مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 388
مکتوبات احمد ۳۸۸ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا اب بفضلہ تعالیٰ میری طبیعت ٹھہر گئی ہے، دورہ مرض سے امن ہے۔ حقیقت میں یہ عمر جب انسان ساٹھ پینسٹھ سال کا ہو جاتا ہے، مرنے کے لئے ایک بہانہ چاہتی ہے جیسا کہ ایک بوسیدہ دیوار ۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس قد رسخت حملوں سے وہ بچا لیتا ہے۔ کل کی تاریخ عنبر بھی پہنچ گیا۔ میری طرف سے آپ اس مہربان دوست کی خدمت میں شکر یہ ادا کر دیں جنہوں نے میری بیماری کا حال سن کر اپنی عنایت اور ہمدردی محض اللہ ظاہر کی ۔ خدا تعالیٰ ان کو اس خدمت کا اجر بخشے اور ساتھ ہی آپ کو ۔ آمین ثم آمین ۔ میرے گھر میں جو ایام امید تھے ۔۱۴ جون کو اول در وزہ کے وقت ہولناک حالت پیدا ہو گئی یعنی تمام بدن سرد ہو گیا اور ضعف کمال کو پہنچا اور غشی کے آثار ظاہر ہونے لگے ۔ اس وقت میں نے خیال کیا کہ شاید اب اس وقت یہ عاجزہ اس فانی دنیا کو الوداع کہتی ہے۔ بچوں کی سخت درد ناک حالت تھی اور دوسری گھر میں رہنے والی عورتیں اور ان کی والدہ تمام مردہ کی طرح اور نیم جان تھیں ۔ کیونکہ رڈی علامتیں یک دفعہ پیدا ہوگئیں تھیں ۔ اس حالت میں ان کا آخری دم خیال کر کے اور پھر خدا کی قدرت کو بھی مظہر العجائب یقین کر کے ان کی صحت کے لئے میں نے دعا کی ۔ یک دفعہ حالت بدل گئی اور الہام ہوا تحويل الموت کے یعنی ہم نے موت کو ٹال دیا اور دوسرے وقت پر ڈال دیا اور بدن پھر گرم ہو گیا اور حواس قائم ہو گئے اور لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا ۔ اس تنگی اور گھبراہٹ کی حالت میں میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کے لئے بھی ساتھ ہی دعا کروں ۔ چنانچہ کئی دفعہ دعا کی گئی ۔ زیادہ خیریت ہے ۔ والسلام ۔ جون ۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان اس وقت میں خط لکھ چکا تھا کہ پھر سخت کمر میں درد اور تپ میرے گھر میں ہو گیا ہے سخت بیتاب ہو گئی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ رحم فرماوے ا تذکرہ صفحہ ۲۷۹ ۔ ایڈیشن چہارم اخبار الحکم ۱۴ رجون ۱۹۱۸ء