مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 387

مکتوبات احمد ۳۸۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۶ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ میں باوجود علالت طبع کے اور باوجود ایسی حالتوں کے کہ میں نے خیال کیا کہ شاید زندگی میں سے چند دم باقی ہیں ، آپ کو دعا کرنے میں فراموش نہیں کیا بلکہ انہیں حالات میں نہایت درد دل سے دعا کی ہے اور اب تک میرے جوش میں کمی نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس خط کے پہنچنے تک کتنی دفعہ مجھ کو دعا کا موقع ملے گا۔ میں ہرگز باور نہیں کرتا کہ یہ دعا ئیں میری قبول نہ ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے آپ اس گھڑی کے یقین دل سے منتظر رہیں جبکہ دعاؤں کی قبولیت ظاہر ہو۔ ایک بڑے یقین کے ساتھ انتظار کرنا بڑا اثر رکھتا ہے ۔ میں آپ کو نہیں بتلا سکتا کہ میں آپ کے لئے کس توجہ سے دعا کرتا ہوں ۔ یہ حالت خدا تعالیٰ کو خوب معلوم ہے ۔ ان دنوں میں میری طبیعت بہت بیمار ہو گئی تھی ایک دفعہ مرض کا خطرناک حملہ بھی ہوا تھا ۔ مگر شکر باری ہے کہ اس وقت میں بھی میں نے بہت دعا کی ہے اور اب تک طبیعت بہت کمزور ہے اس لئے کتاب کی تالیف میں بھی حرج ہے۔ ایک نہایت ضروری امر کے لئے آپ کو لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ مدراس میں ایک میلہ یوز آسف کا سال بسال ہوا کرتا ہے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ میلہ کرتے ہیں وہ یوز آسف کس کو کہتے ہیں اور کس مرتبہ کا انسان اس کو سمجھتے ہیں اور نیز ان کا کیا اعتقاد ہے کہ وہ کہاں سے آیا تھا اور کس قوم میں سے تھا۔ اور کیا مذہب رکھتا تھا اور نیز یہ کہ کیا اس جگہ کوئی یوز آسف کا کوئی مقام موجود ہے اور کیا ان لوگوں کے پاس ۔۔۔ کوئی ایسی تحریریں ہیں جن سے یوز آسف کے سوانح معلوم ہو سکیں اور ایسا ہی دوسرے حالات جہاں تک ممکن ہو سکے دریافت کر کے جلد تر مجھ کو اس سے اطلاع بخشیں کیونکہ اس وقت کہ جواب آوے یہ کتاب معرض التوا میں رہے گی۔ اور میں نے باوجود ضعف طبیعت کے نہایت ضروری سمجھ کر یہ خط لکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ خیر و عافیت سے اس خط کو پہنچاوے ۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام ۱۱ جون ۱۸۹۹ء تشحیذ الا ذہان اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۶۰،۱۵۹ خاکسار مرز اغلام احمد کو لکھتا ہوں او