مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 386
مکتوبات احمد ۳۸۶ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۴ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ تار مدراس سے بخیر و عافیت میرے پاس پہنچ گئی۔ الحمد للہ کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے راہ کی آفات سے بچا کر سلامتی کے ساتھ گھر میں پہنچا دیا۔ اسی طرح میں جناب الہی میں دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو معاملات تشویشات سے بھی رہائی بخش کر ہمیشہ آپ کے ساتھ ہو اور اپنی مرضی کی راہوں پر چلا وے آمین ثم آمین ۔ امید رکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اپنے حالات سے مطلع فرماتے رہیں گے۔ بخدمت دیگر ان سلام مسنون ۔ ۱۵ مئی ۱۸۹۹ء ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ مکتوب نمبر ۶۵ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ عبدالرحمن صا۔ لرحمن صاحب سلمہ - السلام علیکم و رحمة الـ ہر طرح پر اللہ جل شانہ کے فضل پر امید رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی تاجر تباہ حالت میں ہو گیا ہے تو ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ جُدا ہے۔ کسی کی تباہی اور سرسبزی محض بدا تفاقات سے نہیں ہوتی بلکہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے ۔ میں جیسا کہ آپ کے رو برو آپ کے لئے دعا میں مشغول تھا ۔ ویسا ہی آپ کے بعد بھی مشغول ہوں اور ہر طرح پر اللہ جل شانہ کی ذات پر نیک امید رکھتے ہیں امید که حالات خیریت آیات سے اطلاع بخشتے رہیں گے اور اس جگہ پر تادم تحریر ہذا خیریت ہے۔ ۲۶ رمتی ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان خط بند کرنے کے بعد مبلغ ایک سو روپیہ بذریعہ منی آرڈر پہنچ گیا۔ جزاکم اللہ خیرا۔