مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 385
مکتوبات احمد ۳۸۵ جلد دوم جوانمرد میں ہوتا ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب بھی لکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ آپ ہر وقت مالی امداد میں مشغول ہیں اس لئے ایسے چندہ سے آپ مستثنی ہیں ۔ آپ کا بہت سا چندہ پہنچ چکا ہے ۔ ۱۸۹۸ء مکتوب نمبر ۶۳ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مبلغ دوسو روپیہ مرسلہ آئمکرم مجھ کومل گیا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ وہ معاملہ رحمت اور فضل اور ۔ اس کرم کا کرے جو آپ اس کی راہ میں اور اس کے بندہ کی مدد میں کر رہے ہیں ۔ آمین ثم آمین ۔ جگہ محمد حسین اور اس کے گروہ کی طرف سے مقدمہ میں فتح پانے کے لئے بڑی طیاری ہو رہی ہے اور وکیلوں کو دینے کے لئے شہروں میں اس کے لئے چندہ جمع ہو رہا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے دوسری قوموں سے بھی اتفاق کر لیا ہے بظاہر مقدمہ ایک خطرناک صورت میں ہو گیا ہے مگر خدا تعالیٰ کے کام انسان کے کام سے الگ ہیں ۔ اب ۵ جنوری ۱۸۹۹ ء قریب آگئی ہے ۔ جو تاریخ پیشی ہے میں نے آئمکرم کے بلانے کے لئے ایک تو اس وجہ سے تار نہیں بھیجا کہ غالبا راہ میں دقتیں ہیں ۔ جالندھر کے ضلع میں بھی طاعون ہے دوسرے یہ بھی خیال رہا ہے کہ اس مقدمہ میں معلوم نہیں کہ قادیان رہوں یا انتقال مقدمہ تک حاضر کچہری رہنا پڑے ۔ یہ ایک آخری ابتلا ہے جو محمد حسین کی وجہ سے پیش آگیا ہے ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے راضی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ مخالفوں نے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچادیا ہے اور خدا تعالیٰ کے کام فکر اور عقل سے باہر ہیں زیادہ خیریت ہے ۔ ۲ جنوری ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد تشخيذ الاذہان اپریل ۱۹۰۸ ء صفحہ ۱۶۰