مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 384
مکتوبات احمد ۳۸۴ جلد دوم ہوں ۔ وہ وهر سے امید تھی کہ اس قدر توقف ظہور میں نہ آتا۔ بہر حال میں آپ کی بلاؤں کے دفع کے لئے ایسا کھڑا ہوں جیسا کوئی شخص لڑائی میں کھڑا ہوتا ہے۔ خدا دا دقوت استقلال اور ثابت قدمی اور صدق ویقین (کے ) ہتھیاروں سے اور عقد ہمت کی پیش قدمی سے اس میدان میں خدا تعالیٰ سے کامیابی چاہتا رحیم و کریم دعاؤں کو سننے والا مہربان خدا ہے اس کے فضل سے ہر ایک رحمت کی امید ہے۔ آپ کے ملنے کا اشتیاق ہے۔ قرنطینہ کی تکلیفات راہ میں نہ ہوں جن کی برداشت مشکل ہوتی ہے تو آپ ہر ایک وقت آسکتے ہیں ۔ مجھے دلی خواہش ہے کہ آپ تشریف لاویں ۔ مگر یہ دریافت کر لینا چاہئے کہ قرنطینہ کی ایذا رسانی روکیں تو درمیان نہیں ہیں؟ اسی وجہ سے میں نے تار نہیں دیا کہ یہ امور صرف خط کے ذریعہ سے مفصل طور پر پیش ہو سکتے ہیں ۔ امید کہ جس وقت تشریف لاویں تو مجھے تار دیں کہ فلاں وقت روانہ ہوئے ۔ میں پہلے اس کے اطلاع دے چکا ہوں کہ میرے پر ایک فوجداری مقدمہ سرکار کی طرف سے دائر ہو گیا ہے۔ جس کا اصل محرک محمد حسین بٹالوی ہے ۔ یہ مقدمہ بظاہر سخت خطر ناک ہے کیونکہ پولیس کے معزز ملازم اس مقدمہ کے پیروکار ہیں جو مقدمہ کے بنانے کی سعی کر رہے ہیں اور محمد حسین بٹالوی بھی کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح جھوٹے گواہ پیش کر کے مجھے زیر مواخذہ کرادے چونکہ ان مخالفوں کی جماعت بڑی ہے، لاکھوں ہیں ۔ اس لئے محمد حسین کے لئے چندے جمع ہو رہے ہیں ۔ تا بیرسٹر اور کئی انگریز وکیل کر کے جعلی الزاموں کو میری نسبت ثابت کرادے۔ ہماری جماعت غریبوں کی جماعت ہے لاہور ، امرتسر ، سیالکوٹ ، راولپنڈی ، پنجاب کے شہروں میں محمد حسین بٹالوی کے لئے ایک رقم کثیر جمع ہوتی جاتی ہے ۔ غالباً دتی میں بھی نذیر حسین کی معرفت یہ چندہ ہوگا ۔ ہم اپنا کام خدا تعالیٰ کو سونپتے ہیں میں نے اول خیال کیا تھا کہ شاید آئمکرم کی تحریک سے مدراس میں کسی قدر چندہ ہو مگر پھر مجھے خیال آتا ہے کہ ہر ایک انسان اس ہمدردی کے لائق نہیں ۔ جب تک انسان سلسلہ میں داخل ہو کر جاں نثار مرید نہ ہو۔ تب تک ایسے واقعات روح پر قومی اثر نہیں کرتے ۔ دلوں کا خدا ما لک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے باوجود اس تفرقہ کے اور ایسی حالت کے جو قریب قریب تباہی کے ہے آپ کو وہ اخلاص بخشا ہے کہ جو وفادار جان شار