مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 383
مکتوبات احمد ۳۸۳ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۱ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ ۔ اللہ آپ کا انتظار ہے اور اب تک ہے نہ معلوم کیا باعث ہوا کہ آپ تشریف نہ لائے ۔ دعا انتہا تک پہنچ گئی ہے ۔ آج صبح کے وقت مجھ کو یہ الہام ہوا۔ قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے امید ہے کہ اپنے حالات خیریت سے اطلاع دیں گے ۔ والسلام ۲۱ دسمبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ کے لئے مکتوب نمبر ۶۲ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامه آنمکرم اور نیز مبلغ ایک سور و پیہ مجھ کو پہنچا جزاكم الله خير الجزاء ۔ میں آپ لئے دعا میں مشغول ہوں ۔ آپ کا ہر ایک خط جس میں تفرقہ خاطر اور خوف وخطر کا ذکر ہوتا ہے ۔ پہلی دفعہ تو میرے پر ایک دردناک ان دردناک اثر ہوتا ہے مگر پھر بعد اس کے جب اللہ جل شانہ کی طاقت اقت اور قدرت اور اس کے وہ الطاف کریمانہ جو میرے پر ہیں ، بلا توقف یاد آ جاتے ہیں تو وہ غم دور ہو کر نہایت یقینی امیدیں دل میں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ آپ کے لئے میرے دل میں عجب جوش تضرع میں اور دعا ہے۔ ہے۔ ا اگر عمیق مصالح جس کا علم بشر کو نہیں ملتا ، توقف کو نہ چاہتیں تو خدا تعالیٰ کے فضل وکرم تذکره صفحه ۲۷۲ ، ۵۷۷ ۔ ایڈیشن چہارم ہے