مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 377
مکتوبات احمد ۳۷۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۵۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ پہلے خط کے روانہ کرنے کے بعد آج مبلغ سو روپیہ مرسلہ آئمکرم بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا ۔ میں آپ کے اس صدق و اخلاص سے نہایت امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا ۔ مجھے آپ کے روپیہ سے اپنے کاروبار میں اس قدر مدد ملتی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا جزاکم اللہ خیر الجزاء یہی عملی حالت ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم پر بہت ہی امید دلاتی ہے۔ چونکہ مجھے اپنے سلسلہ طبع تک میں ایسی حاجتیں پیش آتی رہتی ہیں اور مجھے اس سے زیادہ دنیا میں کوئی غم نہیں کہ جو میں پیش سے بوجہ نہ میسر آنے مالی سرمایہ کے طبع کتب دینیہ سے مجبور رہ جاؤں ۔ اس لئے میں ایک یہی حکمت عملی آپ کے متعلق دیکھتا ہوں کہ آپ دل میں ایک نذر مقرر کر چھوڑیں کہ اگر ایک عمدہ کامیابی امور تجارت میں آپ کو میسر آوے تو آپ یکمشت نذر اس کارخانہ کے لئے ارسال فرماویں۔ کیا تعجب ہے کہ خدا تعالٰی آپ کے اس صدق اور اخلاص پر نظر کر کے وہ کامیابی آپ کے نصیب کرے کہ جو فوق العادت ہو اور اس ذریعہ سے اس اپنے سلسلہ کو بھی کافی مدد پہنچ جاوے کیونکہ اب یہ سلسلہ مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اور شاید یہ کام طبع کتب کا آگے کو بند ہو جائے ۔ آپ کی طرف سے جو مدد آتی ہے وہ لنگر خانہ میں خرچ ہو جاتی ہے اور مجھے جس قدر آپ کے کاروبار کے لئے توجہ ہے ، یہ ایک دلی خواہش ہے جو خدا تعالیٰ نے مجھ میں پیدا کی ہے اور یہ یقین جانتا ہوں کہ یہ خالی نہیں جائے گا۔ ا کیا تعجب کہ اس نیت کے پختہ کرنے پر خدا تعالیٰ فوق العادت کے طور پر آپ سے کوئی رحمت کا معاملہ کرے۔ میں تو جانتا ہوں آپ نہایت خوش نصیب ہیں ، آپ کی دنیا بھی اچھی ہے اور آخرت بھی۔ کیونکہ آپ اس طرف دل سے اور پورے اعتقاد سے جھک گئے ہیں۔ سو اگر تمام دنیا کا کاروبار تباہی میں آجائے تب بھی میں یقین نہیں کرتا کہ آپ ضائع کئے جائیں ۔ والسلام ۲۱ اکتوبر ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ