مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 370
مکتوبات احمد ٣٧٠ جلد دوم مکتوب نمبر ۴۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ نقد مرسلہ آئمکرم مجھ کومل گیا ۔ خدا تعالیٰ آپ کو بہت بہت جزائے خیر بخشے کہ باوجود اس قدر انواع اقسام تر ڈدات کے اس ہموم و غموم کے وقت میں آپ لِلهِ خدمت میں سرگرمی سے مصروف ہیں لیکن باوجود اس علم کے کہ یہ کام اخلاص کا جوش آپ سے کراتا ہے پھر بھی خوشی سے ظاہر کرتا ہوں کہ جب تک یہ ہموم دور نہ ہوں اس وقت تک تکلیف نہ فرمائیں ۔ میں ہرگز دعا میں قاصر نہیں ہوں گا اور میں دعا کو نہیں چھوڑوں گا جب تک صریح آثار نہ دیکھوں اور میں دعا میں مشغول ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل کا ہر وقت ، ہر لحظہ منتظر ہوں ۔ والسلام ۔ ار جولائی ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ مکتوب نمبر ۴۸ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ عاجز آپ کیلئے نماز میں اور خارج کے دعا میں مشغول ہے ۔ جس ذوالجلال خدا کی جناب میں دعا کی جاتی ہے وہ قدرت اور رحمت دونوں صفات اپنی ذات میں رکھتا ہے صرف ایک امر کی دیر ہے۔ عقل مند کسی کی آزمائش کے بعد پھر اس میں شک نہیں کر سکتا ۔ میں نے بے شمار مرتبہ اس غفور رحیم کی رحمتوں کو آزمایا اور دیکھا ہے۔ آپ کو وہ الہام یاد ہوگا ۔ قادر ہے وہ بادشاہ ٹوٹا کام بناوے لے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ نہایت یقین سے آپ اس ذات پاک ربّ جلیل پر یقین رکھیں ۔ مجھے جس قدر اپنی دعاؤں کے قبول ہونے پر وثوق ہے یہ ایک ایسا راز ہے کہ ل تذکره صفحه ۲۶۵۔ ایڈیشن چہارم