مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 368
مکتوبات احمد ۳۶۸ جلد دوم مکتوب نمبر ۴۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ میں اس قدر آپ کے لئے دعا میں لگا ہوا ہوں جس کی تفصیل آپ کے پاس کرنا ضروری نہیں خدا وند علیم بہتر جانتا ہے ۔ میں آپ کے تار کا منتظر نہیں ۔ زیادہ مجھے اس بات کا انتظار ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارت کی تار پہنچے ۔ یہ حالتیں عسر ویسر کی دنیا میں ہوتی رہتی ہیں مگر بڑی بھاری دولت یہ ہے کہ ایسی تقریبوں سے انسان کو خدا تعالیٰ پر زیادہ یقین پیدا ہو جائے جبکہ پر میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ جس کو میں جانتا ہوں کہ وہ حضرت عزت جلشانہ میں قدر رکھتی ہے تو پھر آپ کو زیادہ تر قلق اور کرب میں نہیں رہنا چاہئے ۔ دنیا کے محجوب لوگ جن کو خدا تعالیٰ سے بلا واسطہ اور بواسطہ کچھ تعلق نہیں ہوتا ہے اگر غموں کے صدمہ سے مر بھی جائیں تو کچھ تعجب نہیں ۔ مگر جس کو یہ تقریب پیش آئے جو آپ کو میسر آئی ہے اس کو غم کرنا اس تقریب کی ناقدر شناسی ہے ۔ دنیا تماشا گاہ ہے کبھی انسان عروج میں گویا افلاک تک پہنچتا ہے اور کبھی خاک میں ۔ مگر جو لوگ خدا کی طرف اور خدا کے بندوں کی طرف جھکتے ہیں وہ ضائع نہیں کئے جاتے اِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ لے میں ہر ایک رات پیام بشارت کا منتظر ہوں اور میں خدا وند کریم کو جس قدر فی الواقع رحیم کریم دیکھتا ہوں میرے پاس الفاظ نہیں کہ اُن کو بیان کر سکوں والسلام یکم جولائی ۱۸۹۸ء خاکسار لى التوبة: ۱۲۰ اخبار الحکم مورخه ۲۸ را پریل ۱۹۱۸ ء صفحه ۵ مرزا غلام احمد از قادیان