مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 366
مکتوبات احمد ۳۶۶ جلد دوم خود بخود تحلیل ہو کر کم ہو جاتی ہے ۔ کسی کو ایک ذرہ خیال نہیں ہوتا کہ کب ہوئی اور کب گئی ۔ بلکہ اس کو ہوکر مرض ہی نہیں سمجھتے ۔ تمام لوگ خوب راضی اور خوشی اور اپنے کاموں میں مشغول ہیں ۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور اردگر دسخت خوفناک موتیں ہو رہی ہیں ۔ سُنا ہے کہ کلکتہ میں بھی طاعون پھوٹی ہے۔ شاید یکم مئی ۹۸ ء کو چوبیس وارداتیں ہوئیں ۔ امید کہ آپ ہمیشہ اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں ۔ میں نے عید کے دن طاعون کے بارے میں ایک جلسہ کیا تھا وہ اشتہار چھپ رہا ہے جب چھپ چکے گا ارسال کروں گا ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ والسلام ۱۵ رمئی ۱۸۹۸ء ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکتوب نمبر ۴۲ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تکالیف دور فرمادے ۔ اگر تفکرات ہوں تو مجھے ہر روز خط لکھتے رہیں تا توجہ سرگرمی سے رہے ۔ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے کریم ہے، بڑی بڑی امیدیں اس کی ذات پر ہیں امید قوی ہے کہ وہ فضل کرے گا اور کوئی راہ نکال دے گا۔ میں یقیناً سمجھتا ہوں اور اس پر ایمان رکھتا ہوں جو کچھ سخت ترددات کے وقت میں خدا تعالیٰ غم کو کم کرتا رہا ہے وہ اسی کا فضل ہے اور اسی کی استجابت دعا کا اثر ہے۔ امید رکھتا ہوں کہ آپ ہر روزہ کارڈ سے مجھ کو اطلاع بخشتے رہیں گے۔ والسلام ۔ عزیزی سیٹھ احمد عبد الرحمن صاحب کی اہلیہ کے لئے بھی دعا کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک ابتلا سے بچاوے ۔ آمین ۔ ۱۶ رمتی ۱۸۹۸ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ