مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 365

مکتوبات احمد ۳۶۵ جلد دوم مکتوب نمبر ۴۰ مکر میخند و می اخویم سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آج کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ مرسلہ آئمکرم مجھ کو پہنچ گیا ۔ جزاكم الله خيراً مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے بعض اوقات میں آپ کے لئے دعا کرنے کا بہت عمدہ اتفاق ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔ امید کہ حالات موجودہ سے اطلاع بخشیں اور جلد جلد خط بھیجتے رہیں ۔ یہ آپ کے ذمہ ہے زیادہ خیریت ہے ۔ والسلام رمتی ۱۸۹۸ء ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ مکتوب نمبر ۴۱ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنه از قادیان ۔ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ آپ کا عنایت نامہ خیریت شمامہ پہنچا، بدریافت فضل الہی اور خیر و عافیت بدرگاہ باری تعالیٰ شکر کیا گیا ۔ میں بمع اپنے دوستوں کے اور اہل وعیال کے خیر و عافیت سے ہوں ۔ اس طرف طاعون چمکتی جاتی ہے۔ اب اسی کے قریب گاؤں جن میں زور و شور ہو رہا ہے ۔ قادیان میں یہ حال ہے کہ لڑکوں اور جوانوں اور بڑھوں کو بھی خفیف سا تپ چڑھتا ہے ۔ دوسرے دن کانوں کے نیچے یا بغل کے نیچے پائن ران میں گلٹی نکل آتی ہے ۔ ایک گلٹی مجھے بھی نکلی اور پہلے بھی ایک نکلی تھی اور میرے لڑکے بشیر احمد کو بھی ایک دن تپ چڑھ کر پھر کانوں کے مقابل گال کی طرف گلٹی نکل آئی ۔ مولوی صاحب حکیم نورالدین صاحب کے داماد کو بغل کے نیچے گلٹی نکلی ۔ میر ناصر نواب صاحب کے لڑکے اسحاق کو کنج ران میں تپ کے بعد گلٹی نکل آئی۔ مگر خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ تپ اس قدر خفیف کہ کام والے لوگ اس میں کام کرتے ہیں ، نہ بے قراری ، نہ سر درد، نہ کوئی گھبراہٹ ، بعینہ وہی حالت جو صحت کی ہوتی ہے موجود رہتی ہے لڑکے بے تکلف ہنستے پھرتے ہیں اور گلٹی تیسرے چوتھے روز -