مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 361
مکتوبات احمد ۳۶۱ جلد دوم مکتوب نمبر ۳۵ محبی اخویم سیٹھ احمد صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آپ کا عنایت نامہ نامہ پہنچا۔ بدریافت خیر و عافیت شکر کیا گیا الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - میری طبیعت ابھی تک علیل ہے ۔ ضعف دماغ اس قدر ہو گیا ہے کہ بعض اوقات غشی کا اندیشہ ہوتا ہے باعث کثرت سیلان آب بینی دماغ خالی معلوم ہوتا ہے ، ساتھ اس کے کھانسی بھی ہے۔ باوجود اس حالت کے میں دعا سے غافل نہیں ۔ میرا دل اس بات کے لئے بہت بیتاب ہے کہ مجھے صحت ہو تو میں آپ کے والد صاحب کی رفع پریشانی کے لئے اس توجہ کامل سے دعا کر سکوں جو پہلے کرتا تھا۔ بایں ہمہ جناب باری تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ میری یہ دعا ئیں بھی خالی نہ جائیں ۔ اس طرف طاعون کا زور بہت ہے۔ اب ضلع جہلم میں بھی ، جو ہم سے قریباً ایک سو پچاس میل کے فاصلہ پر ہے، واردات شروع ہو گئی ہیں اور ہوشیار پور اور جالندھر کے ضلع میں قریباً ساٹھ گاؤں میں طاعون پھوٹ رہی ہے۔ نہ معلوم اللہ جل شانہ کا کیا ارادہ ہے۔ میں ایک رسالہ طاعون کا لکھ رہا تھا کہ اتنے میں بیماری لاحق حال ہو گئی ہے اللہ جل شانہ سے امید رکھتا ہوں کہ مجھے پوری صحت عطا فرمادے ۔ زیادہ خیریت ہے۔ بخدمت مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب آپ کے والد صاحب کے سلام مسنون ۔ سنا گیا ہے کہ پنجاب کی راہ بند ہو جائے گی ۔ ۲ را پریل ۱۸۹۸ء *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔* والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان