مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 359
مکتوبات احمد ۳۵۹ جلد دوم مکتوب نمبر ۳۳ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ عین انتظار میں پہنچا۔ آپ کی خدمت میں ایک خط پہلے لکھ چکا ہوں امید کہ پہنچ گیا ہوگا ۔ میری طبیعت ابھی علیل ہے کھانسی اور زکام کا بہت زور ہے مگر آپ کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ امید کہ انشاء الله القدیر کسی وقت وہ دعا میسر آجائے گی ۔ جس سے پورے طور پر کامیابی حاصل ہو۔ بوجہ ضعف و علالت ابھی میں بہت توجہ سے قاصر ہوں۔ میں نے جو اپنی نسبت بعض خواہیں اور الہامات دیکھے ہیں ۔ میں ان سے حیران ہوں ۔ دو مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا مجھے مرض طاعون ہو گئی ہے اور ورم طاعون نمو دار ہے ۔ اب آج بھی یہی خواب آئی ہے۔ اسی کے قریب رم طاعون قریب ایک الہام بھی ہے جو کسی رنج اور بلا پر دلالت کرتا ہے اور معبّرین نے طاعون سے مراد کبھی تو طاعون اور کبھی خارش اور حکام کی طرف سے کوئی عذاب و تکالیف اور کبھی کوئی اور فتنہ رنج دہ مراد لیا ہے ، معلوم نہیں کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔ اور طاعون اب ہمارے گاؤں سے صرف سات کوس کے فاصلہ پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی بلاؤں کا محافظ ہو۔ میں اپنے بدن میں اس قد رضعف محسوس کرتا ہوں کہ اس قدر خط بھی مشکل سے لکھا گیا ہے۔ زیادہ خیریت ہے ۔ ۲۵ مارچ ۱۸۹۸ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد