مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 355
مکتوبات احمد ۳۵۵ جلد دوم ہوں تو بعد استخارہ مسنون ان دنوں میں جو سفر کے بہت مناسب حال ہیں ، تشریف لاویں۔ لیکن اگر راہ میں بوجہ بیماری طاعون کے تکلیف قرنطینہ در پیش ہو اور کچھ تکلیف دہ روکیں ہوں جس کی مجھے اطلاع نہیں ہے تو اس امر کو خوب دریافت کر لیں ۔ غرض تشریف لانے کے یہی دن ہیں ۔ شاید آپ کا یہ کام ہی جناب الہی میں قابل رحم تصور ہو مگر میں بار بار آپ کو وصیتاً بھی کہتا ہوں کہ یہ تکالیف خدا تعالیٰ کے نزدیک کچھ چیز نہیں ہیں ، صرف ثواب اور اجر دینے کیلئے خدا تعالیٰ امتحان میں ڈالتا ہے اس لئے آپ بہت استقلال اور مردانہ شجاعت اور بہادری سے بڑے قومی صبر سے ساتھ روز کشایش کے منتظر ر ہیں کہ جب وہ وقت آئے گا تو ایک دم میں فضل الہی شامل حال ہو جائے گا ۔ آپ کیلئے اس خلوص اور توجہ کے ساتھ دعا کر رہا ہوں کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں ۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ۱۳ نومبر ۱۸۹۷ء ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ مکتوب نمبر ۲۹ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ آج کئی دن کے بعد آئمکرم کا عنایت نامہ مجھ کو ملا ۔ میں اوّل بمقام ملتان ایک گواہی کے لئے گیا تھا۔ پھر وہاں سے آکر دو مرتبہ سخت بیمار ہو گیا ۔ ایک دفعہ شدت بیماری سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آخری دم ہے۔ ان حالات میں بھی میں آپ کے لئے دعا کرتا رہا۔ اب میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے جیسا کہ میں نے وعدہ کیا ہے آپ کے لئے بہت دعا کروں جب تک اس دعا کا وقت پہنچ جائے کہ اللہ تعالیٰ قبولیت سے بشارت بخشے ۔ سو آپ مطمئن رہیں وہ خدا جس پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ نہایت کریم اور رحیم ہے اور آخر اپنے ضعیف بندوں پر رحم فرماتا ہے۔ ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے مومن کو چاہئے کہ ایک بہادر کی طرح ان کو قبول کرے۔ خدا تعالیٰ مومن کو تباہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ ابتلاؤں کو اس لئے نازل کرتا ہے کہ اس کے گناہ بخشے اور اس کا مرتبہ زیادہ کرے۔ سے دعا کروں گا اور خدا تعالیٰ پر یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری دعا کو میں آپ کے لئے بہت جدو جہد سے دعا ۔