مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 354
مکتوبات احمد ۳۵۴ جلد دوم مکتوب نمبر ۲۷ مخدومی مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبد الرحمن صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ میں نہایت توجہ سے آپ ، آپ کے لئے مصروف دعا ہوں اور ہمارا خدا وند کریم بے حد و شمار غفور رحیم ہے۔ اس پر اور اس کے فضل پر پورا بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ میں اس دعا کو چھوڑ نا نہیں چاہتا جب تک اس کے آثار ظاہر ہوں ۔ اس کے کاموں سے کیوں ڈرنا چاہئے جو معدوم کر کے پھر موجود کر سکتا ہے۔ آپ تمام شجاعت اور بہادری سے اور اولوا العزمی سے خدا تعالیٰ کے فضل کے امیدوار رہیں۔ جو لوگ صبر سے اس کے فضل کے منتظر رہتے ہیں وہی لوگ اس دنیا میں اول درجہ کے خوش قسمت ہیں ۔ آپ کی ملاقات کیلئے بہت اشتیاق ہے مگر میں نہیں چاہتا کہ بے صبری اور گھبراہٹ سے آپ آویں اور مجھ کو ہر وقت اپنے حال پر متوجہ سمجھیں ۔ خدا تعالیٰ آپ کے خوشی کے ایام جلد لاوے ۔ آمین ثم آمین ۔ والسلام ۹ نومبر ۱۸۹۷ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔* مکتوب نمبر ۲۸ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ یہ عاجز دعا میں بدستور مشغول اور انشاء اللہ القدیر اسی طرح مشغول رہے گا۔ جب تک آثار خیر و برکت ظاہر نہ ہوں ۔ دیر آید درست آید ۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ بھی اس تشویش کے وقت اکیس مرتبہ کم سے کم استغفار اور سو مرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنے لئے دعا کر لیا کریں اور اب سے مجھے یہ بھی خیال آیا ہے کہ آپ اگر اس تر ڈو کے وقت میں قادیان تشریف لاویں تردّد تو غالباً دعا کی قبولیت کے لئے یہ تکلیف کشی اور بھی زیادہ موثر ہو گی سو اگر موانع اور حارج پیش نہ