مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 28

مکتوبات احمد ۲۸ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ بعد السلام علیکم و سلمۂ تعالیٰ ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و و بركاته یہ عاجز باعث شدت دردسر جو کئی دن سے لاحق رہی اور آج کچھ تخفیف ہے مگر ضعف بہت، تحریر جواب سے قاصر رہا ہے ۔ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت ہی فضل و کرم ہے جس کا غور سے مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس کا شکر ادا نہیں کر سکیں گے ۔ رہی جزئیات فکروتر ڈو۔ سو وہ بھی کسی بڑی مصلحت کیلئے جس کی حقیقت تک انسان کو رسائی نہیں ایک وقت مقررہ تک لگائے گئے ہیں اور وقت مقررہ کے آنے سے دور بھی ہو جائیں گے۔ اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لے اس احقر ناچیز کی دعا بھی انشاء اللہ منقطع نہیں ہو گی جب تک کشو د کار پیدا نہ ہو ۔ وَلَمْ أَكُنُ بِدُعَائِهِ شَقِيًّا اور دینی امور میں اگر کچھ قبض ہو یا اعمال صالحہ سے بے رغبتی ہو تو پھر بھی مقام شکر ہے کہ اس نقصان حالت کیلئے دل جلتا ہے اور کباب ہوتا ہے ۔ یہ بھی تو ایک بڑی نیکی ہے کہ نیکی کے حصول کیلئے دل غمگین رہے۔ ہم لوگ بکلی اپنے اختیار میں نہیں ۔ علت العلل ہمارے سر پر جو مد بر و حکیم ہے بمقتضائے مصلحت و حکمت جو چاہتا ہے ہم سے معاملہ کرتا ہے۔ فرض کیا اگر وہ ہمیں دوزخ میں ڈالے تو وہ دوزخ ہمیں بہشت سے اچھا ہے۔ ہم کیسے ہی نالائق ہوں مگر پھر اس کے ہیں ۔ گر نه باشد بدوست راه بردن شرط عشق است در طلب مردن ۲ مارچ ۱۸۸۷ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان البقرة: ١٠٧