مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 27

مکتوبات احمد ۲۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ از طرف عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم و مکرم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ عنایت نامہ پہنچا اور کئی بار میں نے اس کو غور سے پڑھا۔ جب میں آپ کی ان تکلیفوں کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی ان کریمانہ قدرتوں کو ، جن کو میں نے بذات خود آزمایا ہے اور جو میرے پر وارد ہو چکی ہیں تو مجھے بالکل اضطراب نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خداوند کریم قادر مطلق ہے اور بڑے بڑے مصائب شدائد سے مخلصی بخشتا ہے اور جس کی معرفت زیادہ کرنا چاہتا ہے ضرور اُس پر مصائب نازل کرتا ہے تا اُسے معلوم ہو جاوے کہ کیونکر وہ نومیدی سے امید پیدا کر سکتا ہے۔ غرض فی الحقیقت وہ نہایت ہی قادر و کریم و رحیم ہے۔ البتہ صبر چاہیے کہ ہر ایک چیز اپنے وقت سے وابستہ ہے ۔ جس قد ر ضعف دماغ کے عارضے میں یہ عاجز مبتلا ہے مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یہی یقین رہا کہ میں نامرد ہوں ۔ آخر میں نے صبر کیا اور دعا کرتا رہا تو اللہ جل شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا ۔ اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں بیان ہی نہیں کر سکتا ۔ خدا تعالیٰ سے زیادہ تر کامل معالج اور کوئی بھی نہیں ۔ ہماری سعادت اسی میں ہے کہ ہم بالکل اپنے تئیں نکھے اور بے ہنر سمجھیں اور ہر طرف سے قطع امید کر کے ایک ہی آستانہ کے منتظر رہیں۔ سواگر آپ مجھے بشرط صبر و شکیب کہنے کی اجازت دیں تو میں اسی کامل معالج سے آپ کے علاج کی درخواست کرتا رہوں گا ۔ بشرطیکہ آپ عجلت نہ کریں ۔ طلبگار باید صبور و حمول ۔ اب مجھے کسی تدبیر ظاہری پر اعتقاد نہیں رہا۔ میں جانتا ہوں کہ تدبیر صائب بھی تب ہی سوجھتی ہے کہ جب خود قادر مطلق بند سے رہا کرنا چاہتا ہے ۔ مگر میں اس بات سے بہت ہی خوش ہوں اس طرح کہ جس طرح کوئی نہایت راحت بخش نشاط میں ہوتا ہے کہ ہم ایسا قادر و کریم اپنا مولا رکھتے ہیں کہ جو قدرت بھی رکھتا ہے اور رحم بھی ۔ آج میں نے چار کتا بیں سیالکوٹ میں رجسٹری کرا کر بھیج دی ہیں ۔ اطلاعاً لکھا گیا ہے ۔ والسلام ۲۲ فروری ۱۸۸۷ء الحکم ۷ را گست ۱۹۰۳ء صفحہ ۳ خاکسار ۔ غلام احمد از قادیان