مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 29

مکتوبات احمد ۲۹ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۷ آخرموت بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی خوریم حکیم مولوی نور الدین صاحب سلمہ تعلی۔ اسلام علیکم ورحمة الله و بركاته دنیا جائے ترڈ دو حزن و مصیبت و غم ہے۔ نہ ایک کے لئے بلکہ سب کے لئے جس کی ابتداء میں طفلی و بیچارگی اور آخر میں پیرانہ سالی و شیخوخیت (اگر عمر طبعی تک نہ پہنچی ) اور سب سے ( بانگ برآید فلاں نماند ) اس میں پوری پوری خوشی و راحت کا طلب کرنا غلطی ہے۔ رابعہ بصری رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ میں نے اپنے لئے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ اصل حصہ دنیا میں میرے لئے غم و مصیبت ہے اور اگر کبھی خوشی پہنچ جاوے تو یہ ایک زائد امر ہے جس کو میں اپنا حق نہیں سمجھتی ۔ سومومن کو مرد میدان بن کر اس دار فانی سے تلخیاں ترشیاں سب اُٹھانی چاہئیں ۔ ہمارا وجو د انبیاء اور اماموں سے کچھ انوکھا نہیں بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ لذت و انس و شوق وراحت ، طلب الہی میں تب ہی محسوس ہوتی ہے کہ جب حضرت ایوب کی طرح مصیبتوں پر صابر ہو کر یہ کہیں کہ میں ننگا آیا اور ننگا ہی جاؤں گا“۔ مفلس شدیم و دست از هر مایه فشاندیم دزد خبیث شیطان از مفلسان چه خواهد فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ كُونُوا لَهُ مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ۔ والسلام على من اتبع الهدى ** خاکسار غلام احمد ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ : اس خط پر کوئی تاریخ نہیں ۔ میں اسے ۱۸۸۷ء کا سمجھتا ہوں ۔ ( عرفانی ) الحکم ۱۰ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۳