مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 342

مکتوبات احمد ۳۴۲ جلد دوم یاد نہ ہو تو واپنی اپنی زبان میں کافی ہے اور سفر کا نام لے لینا چاہئے کہ فلاں جگہ کے لئے سفر ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کا ہر جگہ حافظ ہو لیکن ہماری طرف سے شرط یہ ہے کہ ایام سابق کی طرح آپ صرف دس پندرہ دن نہ رہیں، چالیس دن سے کسی طرح کم نہ رہیں ۔ ہر ایک جدائی کے بعد معلوم نہیں کہ پھر ملنا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ یہ دنیا سخت بے ثبات اور نا پائیدار ہے ۔ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا اس میں کیا عمدہ سبق بر فراق بہار و وقت خزاں ہے۔ بلبلے زار زار می نالید گفتمش صبر کن که باز آید گفت ترسم بقا وفا نکند آن زمان شگوفه ۱۴ رنومبر ۱۸۹۶ء و ریحان ورنہ ہر سال گل دهد بستان ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆ مکتوب نمبر ۱۲ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد مخدومی مکرمی حاجی سیٹھ عبد الرحمن صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ کل تار کے ذریعہ سے مبلغ سو روپیہ مجھ کو آپ کی طرف سے پہنچ گیا۔ اللہ جلتا نہ آئمکرم کو ان للی خدمات کا دونوں جہاں میں اجر بخشے اور آپ کو محبت میں اپنی ترقیات عطا فرمادے اور آپ کے ساتھ ہو۔ میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اپنی کسی کتاب میں محض بھائیوں کی دعا کے لئے آئمکرم کی دینی خدمات کا کچھ حال لکھوں ۔ کیونکہ اس میں دوسروں کو نمونہ ہاتھ آتا ہے اور محبانِ اسلام غائبانہ دعا سے یاد کرتے ہیں اور آئندہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور نیز چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ چند اور دوستوں کا بھی ذکر کروں ۔ کیونکہ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں ترغیب دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جیسا کہ تم بعض اپنے نیک اعمال کو پوشیدہ کرتے ہو ایسا ہی بعض اخبار الحکم ۲۱، ۲۸ مارچ ۱۹۱۸ ء صفحه ۱۴:۱۳