مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 341

مکتوبات احمد ۳۴۱ جلد دوم مکتوب نمبر 1 مخدومی مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبد الرحمن صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ میں بباعث علالت طبع تین روز جواب دینے سے قاصر رہا۔ آپ کی تشریف آوری کے ارادہ سے نہایت خوشی ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ خیر اور فضل اور عافیت سے پہنچاوے۔ امید کہ بعد تین دن کے استخارہ مسنونہ جو سفر کے لئے ضروری ہے ، اس طرف کا قصد فرماویں۔ بغیر استخارہ کے کوئی سفر جائز نہیں ۔ ہمارا اس میں طریق یہ ہے کہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں ۔ پہلی رکعت میں سورۃ قُلْ يَأَيُّهَا الْکٰفِرُونَ پڑھیں ۔ یعنی الحمد تمام پڑھنے کے بعد ملا لیں ۔ جیسا کہ سورۃ فاتحہ کے بعد دوسری سورۃ ملایا کرتے ہیں اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھ کر سورۃ اخلاص یعنی قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ملالیں اور پھر التحیات میں آخر میں اپنے سفر کے لئے دعا کریں کہ یا الہی ! میں تجھ سے کہ تو صاحب فضل اور خیر اور قدرت ہے، اس سفر کے لئے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو عواقب الامور کو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو ہر ایک امر پر قادر ہے اور میں قادر نہیں ۔ سویا الہی ! اگر تیرے علم میں یہ بات ہے کہ یہ سفر سرا سر میرے لئے مبارک ہے، میری دنیا کیلئے، میرے دین کیلئے اور میرے انجام امر کیلئے اور اس میں کوئی شر نہیں ۔ تو یہ سفر میرے لئے میسر کر دے اور پھر اس میں برکت ڈال دے اور ہر ایک شر سے بچا۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ سفر میرا میری دنیا یا میرے دین کے لئے مضر ہے اور اس میں کوئی مکروہ دہ امر ہے تو اس سے میرے دل کو پھیر دے۔ اور اس سے مجھ کو پھیر دے آمین ۔ یہ دعا ہے جو کی جاتی ہے۔ تین دن کرنے میں حکمت یہ ہے کہ تا بار بار کرنے سے اخلاص میسر آوے ۔ آج کل اکثر لوگ استخارہ سے لا پرواہ ہیں ۔ حالانکہ وہ ایسا ہی سکھایا گیا ہے جیسا کہ نماز سکھائی گئی ہے ۔ سو یہ اس عاجز کا طریق ہے کہ اگر چہ دس کوس کا سفر ہو تب بھی استخارہ کیا جاوے۔ سفروں میں ہزاروں بلاؤں کا احتمال ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا کا وعدہ ہے کہ وہ استخارہ کے بعد متوتی اور متکفل ہو جاتا ہے اور اس کے فرشتے اس کے نگہبان رہتے ہیں جب تک اپنی منزل تک نہ پہنچے ۔ اگر چہ یہ دعا تمام عربی میں موجود ہے۔ لیکن اگر