مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 334
مکتوبات احمد ۳۳۴ جلد دوم ہفتہ تک دو ہزار روپیہ کا اشتہار آپ کے پاس پہنچے گا اور غالباً یہ اشتہار دس ہزار تک چھپے گا ۔ والسلام پہنچےگا یہ گا۔ خاکسار غلام احمد اس خط پر تاریخ نہیں مگر مضمون سے معلوم ہوتا ہے ستمبر ۱۸۹۴ء کا ہے ۔ ایڈیٹر ) مکتوب نمبر ۴ مکرمی مخلص و محب یک رنگ حاجی سیٹھ اللہ رکھا عبد الرحمن صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ آئمکرم کے ایک سو روپیہ مرسلہ بذریعہ تارکل کی ڈاک میں مجھ کو ملا ۔ خدا تعالیٰ ان خدمات کا بدلہ جو آپ اللہ کر رہے ہیں ، دین و دنیا میں آپ کو عطا فرمادے اور ہر ایک قسم کی بلا اور آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین ۔ آپ کا روپیہ جس قدر دینی کاموں اور اغراض میں ہمیں کام آ رہا ہے ۔ اس سے اطمینان دل کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ جل شانہ نے ثواب کبری پہنچانے کا آپ کے لئے ارادہ فرمایا ہے ۔ دنیا کی حقیقت خدا تعالیٰ کے نزدیک اس قدر ہیچ ہے کہ پر پیشہ کے برابر بھی نہیں اس لئے فاسق ، فاجر اور بڑے بڑے کا فر بھی اس میں شریک ہیں بلکہ دنیا میں زیادہ عروج انہیں کا نظر آتا ہے۔ پس نیک بخت مسلمان کے لئے جو سچا مسلمان ہے فکر آخرت مقدم ہے ۔ دنیا میں ہم درختوں کے پتے کھا کر بھی گزارہ کر سکتے ہیں، فاقوں سے بھی بسر کر سکتے ہیں ۔ لیکن آخرت کی ذلت اور آخری محتاجگی ایک ابدی موت ہے۔ سو میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ جل شانہ دنیا کی آفات سے محفوظ رکھ کر عاقبت کے مراتب نصیب کرے اور اپنی محبت عطا فرمادے ۔ آمین ۔ مجھے آپ سے دلی محبت ہے ب اور ۔ اور آپ کے لئے غائبانہ دعا کرتا رہتا ہوں اور آپ کے بھائی صالح محمد اور علی محمد اور یونس کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ جل شانہ دنیا کی بلاؤں سے بچاوے اور دین کی لغزشوں سے محفوظ رکھے ۔