مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 26
مکتوبات احمد ۲۶ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۴ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا اور میں نے کئی بار توجہ سے اس کو مطالعہ کیا اور ہر ایک دفعہ مطالعہ کے بعد آپ کے لئے دعا بھی کی کہ اللہ جل شانہ ایسی قدرت ربوبیت سے؟ سے جس سے اس نے خلقِ عالم کو حیران کر رکھا ہے آپ کو حزن اور خوف اور اندوہ سے مخلصی عطا فرمادے اور اپنی رحمتِ خاصہ سے دنیا و دین میں کامیاب کرے ۔ آمین افسوس کہ مجھے آپ کے حزن و اندوہ کی تفاصیل پر اطلاع نہیں ملی اور نہ شدت مرض سے مطلع ہوں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے ۔ اگر مناسب تصویر فرما دیں تو کسی قدر اس عاجز کو اپنے ہموم و عموم کا ہمر ا ز کر دیں۔ نوکری قبول کرنے میں آں مخدوم نے بہت ہی مناسب کیا ۔ اللہ تعالیٰ اسی قدر میں برکت بخشے ۔ الهام آج مجھے فجر کے وقت یوں القا ہوا ۔ یعنی بطور الہام ، عبد الباسط ، معلوم نہ تھا کہ یہ کس کی طرف اشارہ ہے ۔ آج آپ کے خط میں عبدالباسط دیکھا۔ شاید آپ کی طرف اشارہ ہو۔ واللہ اعلم ۔ میں آپ کا دلی غمخوار ہوں اور دل سے آپ سے محبت ہے ۔ ولكل امر مستقر ۔ والسلام ۱۳ فروری ۱۸۸۷ء نوٹ : نمبر اوہ کے مقام سے خط پھٹا ہوا ہے ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان حضرت حکیم الامۃ نے بار ہا فرمایا کہ میرا الہامی نام عبدالباسط کے ہے ۔ مگر انہوں نے کبھی یہ تشریح نہ کی تھی کہ کس کو الہام ہوا ۔ اس خط سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ الہام آپ کا نام عبدالباسط بتایا گیا تھا۔ ( عرفانی ) لا تذکرہ صفحہ ۱۱۷۔ ایڈیشن چہارم