مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 319
مکتوبات احمد ۳۱۹ جلد دوم مکتوب نمبر ۹۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میری لخت جگر مبارکہ بیگم کی نسبت جو آپ کی طرف سے تحریک ہوئی تھی میں بہت دنوں تک اس معاملہ میں سوچتا رہا۔ آج جو کچھ خدا نے میرے دل میں ڈالا ہے اس شرط کے ساتھ اس رشتے میں مجھے عذر نہیں ہوگا اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کو بھی اس میں تامل نہیں ہوگا ۔ اور وہ یہ ہے کہ مہر میں آپ کی دو سال کی آمدن جا گیر مقرر کی جائے یعنی پچاس ہزار روپیہ اور اس اقرار کے بارے میں ایک دستاویز شرعی تحریری آپ کی طرف سے حاصل ہو۔ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ نہایت درجہ اخلاص میں گداز شدہ ہیں اور آپ نے ہر ایک پہلو سے ثبوت دے دیا ہے کہ آپ کو جانفشانی تک دریغ نہیں مگر جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ اوّل تو آپ کی خداداد حیثیت سے بڑھ کر نہیں اور پھر آپ کی ذات کے متعلق نعوذ باللہ اس میں کوئی بدگمانی نہیں محض خدا نے میرے دل میں ایسا ہی ڈال دیا ہے اور ظاہری طور پر اس کے لئے ایک صحیح بنا بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ موت حیات کا اعتبار نہیں اور آپ کے خاندان کے عمل درآمد کے رو سے عورتیں اپنے شرعی حقوق سے محروم ہوتی ہیں ۔ درآمد اگر بعد میں کچھ گزارہ تجویز کیا جائے تو وہ مشکوک اور ( نہ ) اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور خدا آپ کی اولاد کی عمر دراز کرے ۔ وہ بعد بلوغ اپنے اپنے خیالات اور اغراض کے پابند ہونگے اور حق مہر کا فیصلہ ایک قطعی امر ہے اور ایک قطعی حق ہے جو خدا نے ٹھہرا دیا ہے اور عورتیں جو بے دست و پا ہیں اس حق کے سہارے سے ظلم سے محفوظ رہتی ہیں ۔ آپ کی زندگی میں اس مہر کا مطالبہ نہیں لیکن خدانخواستہ اگر لڑ کی کی عمر ہو اور آپ کی عمر وفا نہ کرے تو اس کی تسلی اور اطمینان کیلئے اور پریشانیوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ طریق اور اس قدر مہر کافی ہوگا تا کہ دوسروں کے لئے صورت رُعب قائم رہے ۔ یہ وہ امر ہے جس کو سوچنے کے لئے میں آپ کو اجازت نہیں دیتا ۔ ایک قطعی فیصلہ ہے اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اگر ان دونوں باتوں کی آج آپ تکمیل کر دیں تو گولڑ کی ایک سال کے بعد رخصت ہو مگر پیر کے دن نکاح ہو جائے یہ ایک قطعی فیصلہ ہے جو میری طرف سے ہے۔ اس میں کسی - خطوط وحدانی والا لفظ خاکسار مرتب کی طرف سے ہے۔