مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 303

مکتوبات احمد ٣٠٣ مکتوب نمبر ۸۶ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ جلد دوم آپ پ کا عنایت نامہ پہنچا۔ خاکسار باعث کثرت پیشاب اور دورانِ سر اور دوسرے عوارض کے خط لکھنے سے قاصر رہا۔ ضعف بہت ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ بجز دو وقت یعنی ظہر اور عصر کے گھر میں نماز پڑھتا ہوں ۔ آپ کے خط میں جس قدر تر ڈدات کا تذکرہ تھا پڑھ کر اور بھی دعا کے لئے جوش پیدا ہوا۔ میں نے یہ التزام کر رکھا ہے کہ پنج وقت نماز میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور میں بہ یقین دل جانتا ہوں کہ یہ دعا ئیں بیکار نہیں جائیں گی ۔ ابتلاؤں سے کوئی انسان خالی نہیں ہوتا۔ اپنے اپنے بیکار گی۔ قدر کے موافق ابتلا ضرور آتے ہیں اور وہ زندگی بالکل طفلانہ زندگی ہے جو ابتلاؤں سے خالی ہو۔ ابتلاؤں سے آخر خدا تعالیٰ کا پتہ لگ جاتا ہے۔ حوادث دہر کا تجربہ ہو جاتا ہے اور صبر کے ذریعہ سے اجر عظیم ملتا ہے ۔ اگر انسان کو خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان ہے تو اس پر بھی ایمان ضرور ہوتا ہے کہ وہ قادر خدا بلاؤں کے دور کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ میرے خیال میں اگر چہ وہ تلخ زندگی جس کے قدم قدم میں خارستان مصائب وحوادث و مشکلات ہے، بسا اوقات ایسی گراں گزرتی ہے کہ انسان خود کشی کا ارادہ کرتا ہے۔ یا دل میں کہتا ہے کہ اگر میں اس سے پہلے مرجاتا تو بہتر تھا۔ مگر در حقیقت وہی زندگی قدرتاً ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے سچا اور کامل ایمان حاصل ہوتا ہے۔ ایمان ایوب نبی کی طرح چاہئے کہ جب اس کی سب اولا د مر گئی اور تمام مال جا تا رہا تو اس نے نہایت صبر اور استقلال سے کہا کہ میں ننگا آیا اور ننگا جاؤں گا۔ پس اگر دیکھیں تو یہ مال اور متاع جو انسان کو حاصل ہوتا ہے صرف خدا کی آزمائش ہے۔ اگر انسان ابتلا کے وقت خدا تعالیٰ کا دامن نہ چھوڑے ۔ تو ضرور وہ اس کی دستگیری کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ در حقیقت موجود ہے اور در حقیقت وہ ایک مقرر وقت پر دعا قبول کر لیتا ہے اور سیلاب ہموم و عموم سے رہائی بخشتا ہے ۔ پس قومی ایمان کے ساتھ اس پر بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ وہ دن آتا ہے کہ یہ تمام ہموم و عموم صرف ایک گزشتہ قصہ ہو جائے گا ۔ آپ جب تک مناسب سمجھیں لاہور میں رہیں ۔