مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 302

مکتوبات احمد ٣٠٢ جلد دوم اس سے لڑکی کو اطلاع دی جائے مگر وداع نہ کیا جائے ۔ لڑکی بجائے خود خود پرورش اور تعلیم تعلیم پاوے اور اور لڑکا بجائے خود ۔ جب دونوں بالغ ہو جائیں تب رخصت کیا جائے کیونکہ فی التاخیر آفات کا ہی مقولہ صحیح ہے جو تجربہ اس کی صحت پر گواہی دیتا ہے۔ زندگی کا کچھ بھی اعتبار نہیں ۔ شیخ سعدی نے اس میں کیا عمدہ ایک غزل لکھی ہے اور وہ یہ ہے ۔ سلسلے زار زار می نالید گفتمش صبر کن که باز آید گفت ترسم بقا وفا نکند اسی طرح شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ سال دیگر را که میداند حساب بر فراق بہار و وقت خزاں آن زمان شگوفہ ریحان ورنہ ہر سال گل دهد بستاں و تا کجا رفت آنکه با ما بود یار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم، یعنی ان باتوں کے پیچھے مت پڑ جن کا تجھے علم نہیں ۔ پس ہمیں کیا علم ہے کہ سال آئندہ میں ہم زندہ ہوں گے یا نہ ہوں گے اور جب قائمقاموں کے ہاتھ میں بات جاتی ہے تو وہ اپنی ہی رائے کو پسند کرتے ہیں میں نے یہ محض میں نے اپنی رائے لکھی ہے اور آپ اپنی رائے اور ارادہ میں مختار ہیں ۔ ۱۸ نومبر ۱۹۰۶ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۰ ر رمضان المبارک ۱۳۲۴ھ میں نے خط میں دو بار مرقوم ہے ۔ مرتب ا بنی اسرائیل: ۳۷ ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔