مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 301
مکتوبات احمد ۳۰۱ جلد دوم مکتوب نمبر ۸۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزم اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط مرسلہ پہنچا۔ اس کے رقعہ کی کچھ ضرورت نہ تھی لیکن میں جانتا ہوں کہ جس طرح انسان دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک فیصلہ کر کے مطمئن ہو جاتا ہے اور پھر اس درد سے نجات پاتا ہے کہ جو تنازع کی حالت میں ہوتی ہے اسی طرح انسان کا نفس خدا تعالیٰ نے ایسا بھی بنایا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر کئی مقدمات بر پا رکھتا ہے اور ان مقدمات سے نفس انسانی بے آرام رہتا ہے لیکن جب انسان کسی امر کے متعلق ایک فیصلہ کر لیتا ہے تب اس فیصلہ کے بعد ایک آرام کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ کی رائے میں صرف یہ کسر باقی ہے کہ ہمیں زندگی کا اعتبار نہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر فرمایا ہے ایسا ہی آپ بھی زندگی پر بھروسہ نہیں کر سکتے اور اس بارے میں یہ شعر شیخ سعدی کا بہت موزوں ہے۔ مکن تکیه بر عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روز گار پس اگر ہمیں موت آگئی تو ہم اس رشتہ کی خوشی سے محروم گئے اور نیز اس دعا سے محروم رہے کہ جو ہماری زندگی کی حالت میں اس رشتہ کے مبارک ہونے کیلئے کر سکتے تھے ۔ کیونکہ وہ دعا اس وقت سے مخصوص ہے جب نکاح ہو جاتا ہے ۔ علاوہ اس کے ہر ایک کو اپنی عمر پر اعتماد کرنا بڑی غلطی ہے۔ آج سے چھ ماہ پہلے آپ کے گھر کے لوگ صحت کے ساتھ زندہ موجود تھے ۔ کون خیال کر سکتا تھا کہ وہ اس عید کو بھی نہ دیکھ سکیں گے اسی طرح ہم میں سے کس کی زندگی کا اعتبار ہے؟ اگر موت کے بعد اس وعدہ کی تکمیل ہو تو گویا میری اس بات کو یاد کر کے خوشی کے دن میں رونا ہو گا مگر میں آپ کی رائے میں کچھ دخل نہیں دیتا صرف عمر کی بے ثباتی پر خیال کر کے یہ چند سطریں لکھی ہیں کیونکہ بقول شخصے اے ز فرصت بے خبر در هر چه باشی زود باش وقت فرصت کو ہاتھ سے دینا بسا اوقات کسی دوسرے وقت میں موجب حسرت ہو جاتا ہے۔ میری دانست میں تو اس میں کچھ حرج نہیں اور سراسر مبارک ہے کہ رمضان کی ۲۷ / تاریخ کو بظن غالب لیلۃ القدر کی رات اور دن ہے مسنون طور پر نکاح ہو جائے اور اس میں کیا حرج ہے کہ