مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 300

مکتوبات احمد جلد دوم جس طرح خدا چاہے گا اس کو انجام دے گا ۔ بالفعل بموجب وحی الہی وَسِعُ مَكَانَگ کے مہمانوں کے پورے آرام کے لئے ان اخراجات کی ضرورت ہے۔ پس میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ اگر ایک بلا سے رہا ہونے کے لئے آپ معہ اپنے بھائیوں کے دوسری بلا کو منظور کر لیں یعنی یہ نذر کر لیں کہ اگر ہمیں اس بلا سے غیبی مدد سے رہائی ہوئی تو ہم اس قدر رو پی محض اللہ ان دینی ضروریات کیلئے ، جس طرح ہم سے ہو سکے ، بلا توقف ادا کر دیں گے۔ تو میں اسی طرح دعا کروں گا جس طرح میں نے نظام الدین مستری کیلئے دعا کی تھی ۔ خدا تعالیٰ نکتہ نواز ہے۔ کچھ تعجب نہیں کہ آپ کے اس صدق کو دیکھ کر آپ کی مشکل کشائی فرماوے۔ میں یہ وعدہ نہیں کرتا کہ ضرور یہ دعا قبول ہو جائے گی کیونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز ہے مگر مجھے اپنے رب کریم کی سابق عنایتوں پر نظر کر کے یقین گلی ہے کہ کم سے کم وہ مجھے آئندہ کے حالات سے اطلاع دے دے گا اور چونکہ اس نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں پچاس یا ساٹھ نشان اور دکھلاؤں گا اس لئے تعجب نہیں کہ آپ کی اس بیقراری کے وقت یہ بھی ایک نشان ظاہر ہو جائے ۔ لیکن قبل اس کے کہ خدا تعالیٰ مشکل کشائی فرما دے۔ ہماری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں اور ایک پیسہ کا بھی مطالبہ نہیں ۔ ہاں اگر دعا سنی جائے اور آپ کا کام ہو جائے ۔ تب فی الفور آپ کو نذر مقررہ بلا تاخیر ایک ساعت ادا کرنا ہوگا اور دونفل پڑھ کر خدا تعالیٰ سے یہ عہد کرنا ہو گا اور بعد پختگی عہد بلا توقف مجھے اطلاع دینا ہوگا۔ مجھے یاد ہے کہ جب نظام الدین کے لئے میں نے دعا کی تب خواب میں دیکھا کہ ایک چڑا اڑتا ہوا میرے ہاتھ میں آ گیا اور اس نے اپنے تئیں میرے حوالہ کر دیا اور میں نے کہا کہ یہ ہمارا آسمانی رزق ہے جیسا کہ بنی اسرائیل پر آسمان سے رزق اترا کرتا تھا۔ یہ بات خدا نے میرے دل میں ڈالی ہے۔ دل تو مانتا ہے کہ کچھ ہو نہار بات ہے۔ واللہ اعلم۔ ۵ جون ۱۹۰۶ء ( ب ) والسلام خاکسار مرز ا غلام احمد نوٹ : مکتوب مندرجہ بالا میں جو مستری نظام الدین صاحب سیالکوٹی کا ذکر ہے ۔ حضور نے اس امر کا ذکر حقیقت الوحی صفحہ ۳۲۴،۳۲۳ پر بھی فرمایا ہے ۔