مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 278

مکتوبات احمد ۲۷۸ جلد دوم مکتوب نمبرای ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا ۔ خدا تعالیٰ آپ کو ان مشکلات سے نجات دے۔ علاوہ اور باتوں کے میں خیال کرتا ہوں کہ جس حالت میں شدت گرمی کا موسم ہے اور بباعث قلت برسات یہ موسم اپنی طبعی حالت پر نہیں اور آپ کی طبیعت پر سلسلہ اعراض اور امراض کا چلا جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ در حقیقت بہت کمزور اور نحیف ہو رہے ہیں اور جگر بھی کمزور ہے۔ عمدہ خون بکثرت پیدا نہیں ہوتا ۔ تو ایسی صورت میں آپ کا شدائد سفر تحمل کرنا میری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں اور کیا وجہ کہ آپ کے چھوٹے بھائی سردار ذوالفقار علی خاں صاحب جو صیح اور تندرست ہیں ۔ ان تکالیف کا تحمل نہ کریں۔ اگر موسم سرما ہوتا تو کچھ مضائقہ بھی نہ تھا۔ مگر یہ موسم آپ کے مزاج کے نہایت نا موافق ہے۔ جو مشکلات پیش آئی ہیں وہ بے صبری اور بے جا شتاب کاری سے دور نہیں ہوسکتیں ۔ صبر اور متانت اور آہستگی اور ہوش مندی سے ان کا علاج طلب کرنا چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ آپ اس خطرناک موسم میں سفر کریں اور خدانخواستہ کسی بیماری میں مبتلا ہو کر موجب شماتت اعداء ہوں ۔ پہلے سفر میں کیسی کیسی حیرانی پیش آئی تھی اور لڑکے کے بیمار ہونے سے کس قدر مصائب کا سامنا پیش آگیا تھا۔ کیا یہ ضروری ہے کہ کمشنر کے پاس آپ ہی جائیں اور دوسری کوئی تدبیر نہیں ۔ غرض میری بھی یہی رائے ہے کہ یہ کا روبار آپ پر ہی موقوف ہے تو اگست اور ستمبر تک التوا کیا جائے اور اگر ابھی ضروری ہے تو آپ کے بھائی یہ کام کریں ۔ ڈرتا ہوں کہ آپ بیمار نہ ہو جائیں ۔ خط واپس ہے ۔ اس وقت مجھے بہت سر درد ہے ۔ زیادہ نہیں لکھ سکتا ۔ والسلام خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ