مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 279

مکتوبات احمد ۲۷۹ جلد دوم اصل خط نواب صاحب ملفوف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ التجا ہے کہ بعد ملا حظہ کل عریضہ حکم مناسب سے مطلع فرمایا جاوے ۔ سیدی و مولا کی طبیب روحانی سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مجھ کو جب کسی ملازم کو موقوف کرنا پڑتا ہے تو مجھ کو بڑی شش و پنج ہوتی ہے اور دل بہت کڑھتا ہے ۔ اس وقت بھی مجھ کو دو ملازموں کو برخاست کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے ۔ ایک قدرت اللہ خاں صاحب اور دوسرے عنایت علی صاحب ۔ یہ دونوں صاحب احمدی بھی ہیں ۔ اس سے اور بھی طبیعت میں پیچ و تاب ہے۔ میرا جی نہیں چاہتا کہ کوئی لائق آدمی ہو اور اس کو بلا قصور موقوف کر دوں ۔ اب دقت یہ پیش آئی ہے کہ سید عنایت علی کوئی پانچ سال سے میرے ہاں ملازم ہیں ۔ مگر کام کی حالت ان کی اچھی نہیں ۔ اب تک جس کام پر ان کو میں نے لگایا ہے ۔ اس کی سمجھ اب تک ان کو نہیں آئی اور انہوں نے کوئی ترقی نہیں کی اور میرے جیسے محدود آمدنی کے لئے ایسے ملازم کی ضرورت ہے کہ جو کئی کئی کام کر سکے ۔ وہ اپنا مفوضہ کام پوری طرح نہیں چلا سکتے ۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ نیک اور دیانت دار ہیں مگر کام کے لحاظ سے بالکل ندارد ہیں اور اس پانچ سال کے تجربہ نے مجھے اس نتیجہ پر پہنچا دیا ہے کہ میں ان کو علیحدہ کر دوں ۔ یہ میری سال گزشتہ سے منشاء تھی ۔ مگر صرف اس سبب سے کہ وہ نیک ہیں ، دیانت دار ہیں اور احمدی ہیں میں رکا تھا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ جو فائدہ ان کی دیانت سے ہے اس سے زیادہ نقصان ان کی عدم واقفیت کام سے ہوتا ہے ۔ پس اب میں نہایت ہی متردد ہوں کہ ان کو موقوف کردوں کہ نہیں ۔ کاش وہ میرا کام چلا سکتے تو بہت اچھا ہوتا ۔ ایک وقت ہے کہ میں نے ان سے مختلف صیغوں میں کام لیا۔ مگر وہ ہر جگہ نا قابل ہی ثابت ہوئے ۔ یہ خط نواب صاحب کا ہے جس کے جواب میں مکتوب نمبر ۷۲ لکھا گیا ہے ۔ ( عرفانی )