مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 274
مکتوبات احمد ۲۷۴ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل کے خط کے جواب میں لکھتا ہوں کہ میں صرف چند روز کیلئے اہل و عیال کو ساتھ لے جاتا ہوں کیونکہ میں بیمار رہتا ہوں اور گھر میں بھی سلسلہ بیماری جاری ہے۔ بچے بھی بیمار ہو جاتے ہیں ۔ بار بار مجھے خط پہنچتے ہیں ۔ حیران ہو جاتا ہوں اور محض اس امید پر کہ آپ یہاں تشریف رکھیں گے اور مکرمی مولوی حکیم نورالدین صاحب یہاں ہیں ۔ میں نے یہ ارادہ کیا ہے اور یقین ہے إِن شَاءَ اللہ جلدی یہ فیصلہ ہو جائے گا ۔ اس لئے میرے نزدیک آپ کا اس جگہ ٹھہر نا مناسب ہے۔ آپ کے یہاں رہنے سے مکان میں برکت ہے ۔ امید ہے کہ آپ پسند نہیں فرمائیں گے کہ مکان ویران ہو جائے اور آنے والے مہمان خیال کریں گے کہ گویا سب لوگ اُجڑ گئے ہیں اور شماتت اعداء ہو گی ۔ ماسوا اس کے آپ اگر گورداسپور جائیں تو دو تین میل کے فاصلہ پر مجھ سے دُور رہیں گے۔ ملاقات بھی تکلیف اُٹھانے کے بعد ہو گی پھر علاوہ اس کے خواہ نخواہ چھ سات ( صد) روپیہ کرایوں وغیرہ میں آپ کا خرچ آ جائے گا۔ پہلے ہی مصارف کا نتیجہ ظاہر ہے۔ اب اس قدر بوجھ اپنے سر پر ڈالنا مناسب نہیں ۔ اسب نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ سفر صرف چند روز کا ہے۔ اِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ از مؤلف: یہ مکتوب ۶ جولائی تا ۱۳ را گست ۱۹۰۴ء کے درمیانی عرصہ کا ہے ۔ تفصیل اصحاب احمد جلد دوم حاشیہ صفحہ ۴۸۱ - ۴۸۲ پر مرقوم ہے۔ ے نقل مطابق اصل ۔ سات کے بعد صد کا لفظ چھوٹ گیا ہے جیسا کہ فارسی اعداد ظاہر کرتے ہیں ۔