مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 272

مکتوبات احمد ۲۷۲ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۴ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ خط میں نے پڑھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بات کے معلوم ہونے سے کہ جس قدر بوجہ ہمسائیگی ہمدردی ضروری ہے، وہ آپ سے ظہور میں نہیں آئی ۔ یعنی والدہ محمود جو قریباً دس ماہ تک تکالیف حمل میں مبتلا ہیں اور ج اور جان کے خطرہ سے اللہ تعالیٰ نے بچایا۔ اس حال ۔ اس حالت میں اخلاق کا تقاضا یہ تھا کہ آپ سب سے زیادہ ایسے موقعہ پر آمد و رفت سے ہمدردی ظاہر کرتے اور اگر وہ موقعہ ہاتھ سے گیا تھا۔ تو عقیقہ کے موقعہ پر برادرانہ تعلق کے طور پر آنا ضروری تھا۔ بلکہ اس موقعہ پر کم تعلق والی عورتیں بھی مبارک باد کے لئے آئیں ۔ مگر آپ کی طرف سے ایسا دروازہ بند رہا کہ گو یا سخت ناراض ہیں ۔اس سے سمجھا گیا کہ جب کہ اس درجہ تک آپ ناراض ہیں ۔ تو پھر دروازہ تو پھر دروازہ کا کھلا رہنا نا مناسب ہے۔ ایسے دروازے محض آمد و رفت کے لئے ہوتے ہیں اور جب آمد و رفت نہیں تو ایسا دروازہ ایسی ٹہنی کی طرح ہے۔ جس کو کبھی کوئی پھل نہ لگتا ہو ۔ اس لئے اس دروازہ کو بند کر دیا گیا۔ لیکن خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت بیمار تھے۔ اس وجہ سے آنے سے معذوری ہوئی ۔اس عذر کے معلوم ہونے کے بعد میں نے وہ دروازہ کھلا دیا ہے اور در حقیقت ایسی بیماری جس سے زندگی سے بھی بیزاری ہے خدا تعالیٰ شفاء بخشے ۔ میں نے والدہ محمود کو بھی سمجھا دیا ہے کہ ایسی سخت بیماری کی حالت میں کیونکر آسکتے تھے ۔ امید ہے کہ جس طرح نواب صاحب سچی ہمدردی رکھتے ہیں ۔ آپ بھی اس میں ترقی کریں ۔ خدا تعالیٰ ہر ایک آفت اور بیماری سے بچاوے ۔ آمین ۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ