مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 268
مکتوبات احمد ۲۶۸ جلد دوم مکتوب نمبر ۶۰ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ مجھ کوملا۔ الحمد لله والمنة کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے عزیزی عبدالرحمن خان کو صحت بخشی ۔ گویا نئے سرے زندگی ہوئی ہے۔ اب میرے نزدیک تو یہی بہتر ہے کہ جس طرح ہو سکے قادیان میں آجائیں ۔ لیکن ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہے ۔ کیونکہ مجھے دور بیٹھے معلوم نہیں کہ حالات کیا ہیں اور صحت کس قدر ہے؟ بظاہر اس سفر میں چنداں تکلیف نہیں کیونکہ بٹالہ تک تو ریل کا سفر ہے اور پھر بٹالہ سے قادیان تک ڈولی ہو سکتی ہے اور گو ڈولی میں بھی کسی قدر حرکت ہوتی ہے ۔ لیکن اگر آہستہ آہستہ یہ سفر کیا جائے تو بظاہر کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا اور قادیان کی آب و ہوا بہ نسبت لاہور کے عمدہ ہے ۔ آپ ضرور ڈاکٹر سے مشورہ لے لیں اور پھر ان کے مشورہ کے مطابق بلا توقف قادیان میں چلے آویں ۔ باقی اس جگہ زور طاعون کا بہت ہو رہا ہے ۔ کل آٹھ آدمی مرے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم کرے ۔ آمین ۔ ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ء والسلام خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ ☆☆☆