مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 267
مکتوبات احمد ۲۶۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۵۹ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج کی ڈاک میں آپ کا خط مجھ کو ملا ۔ اس وقت تک خدا کے فضل و کرم اور جُود اور احسان سے ہمارے گھر اور آپ کے گھر میں بالکل خیر و عافیت ہے ۔ بڑی غوثاں کو تپ ہو گیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے ۔ احتیاطاً نکال دیا ہے اور ماسٹر محمد دین کو تپ ہو گیا اور گلٹی بھی نکل آئی ۔ اس کو بھی باہر نکال دیا ہے۔ غرض ہماری اس طرف بھی کچھ زور طاعون کا شروع ہے ، بہ نسبت سابق کچھ آرام ہے۔ میں نے اس خیال سے پہلے لکھا تھا کہ اس گاؤں میں اکثر وہ بچے تلف ہوئے ہیں جو پہلے بیمار یا کمزور تھے۔ اسی خیال نے مجھے اس بات کے لکھنے پر مجبور کیا تھا کہ وہ دو ہفتہ تک ٹھہر جائیں یا اس وقت تک کہ یہ جوش کم ہو جائے ۔ اب اصل بات یہ ہے کہ محسوس طور پر تو کچھ کمی نظر نہیں آتی ۔ آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی بخار ہو گیا ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ آپ سخت تفرقہ میں مبتلا ہیں ۔ اس وقت یہ خیال آیا کہ بعد استخارہ مسنونہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے قادیان آ جاویں۔ میں تو دن رات دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ سے دعائیں کی گئی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہو گیا کہ یہ و ہم گزرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور خطر ناک آثار ظاہر ہو گئے ۔ اگر آتے وقت لاہور سے ڈس انفیکٹ کے لئے کچھ رس کپور اور کسی قدر فینائل لے آویں اور کچھ گلاب اور سرکہ لے آویں تو بہتر ہوگا۔ ۶ را پریل ۱۹۰۴ء والسلام خاکسار مرز اغلام احمد