مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 262
مکتوبات احمد ۲۶۲ جلد دوم حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپریل ۱۹۵۰ء میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو اور مارچ ۱۹۵۰ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیض ہم نے حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب کو خطوط لکھے ان میں بھی بیت الدّعا کا نام ہی آتا ہے۔ ضمیمه اصحاب احمد جلد اول صفحه ۲۲ و مکتوبات اصحاب احمد جلد اول صفحه ۵۷ ) بیت الدعا بھی مسجد البیت ہے کیونکہ حضور نے اسے اسی نام سے اس مکتوب میں پکارا ہے ۔ حدیث شریف میں جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا آتا ہے گویا کہ ہر جگہ نماز پڑھی جاسکتی ہے خواہ بغیر جماعت کے ہو اور ایک مکفوف العین صحابی کے متعلق ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں انہوں نے عرض کی کہ حضور میرے گھر کے کسی حصہ میں دعا فرمائیں تا میں اس جگہ کو مسجد بنالوں ۔ سواسی کو مسجد البیت کہتے ہیں ۔ بیت الدعا خلوت میں دعائیں کرنے کے لئے بنائی گئی اس لئے اسے کھلا اور وسیع نہیں بنایا گیا اور نہ اگر وہ بھی باجماعت نماز ادا کرنے کیلئے استعمال میں لانی ہوتی تو کھلی بنائی جاتی۔ لیکن بیت العافیہ والی مسجد البیت کی غرض ہی یہ تھی کہ جب حضور علالت کے باعث مسجد میں نہ جاسکیں تو وہاں مستورات اور بچوں کو ساتھ شامل کر کے با جماعت نماز ادا کر لیا کریں اس لئے اس کے واسطے کھلی نہ کہ تنگ جگہ تجویز کی گئی اور وہ کھلی جگہ یعنی برآمدہ ہے جو سارا یکساں کھلا ہے اور وہاں دعاؤں کے لئے خلوت اور یکسوئی کا کوئی موقعہ نہیں ۔ سو یہ اندرونی شہادت بہت وزنی ہے۔ حضور نے اپنے مکتوب میں مسجد البیت کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ اس میں خلوت میسر آئے گی ورنہ باقی کا مکان کھلا ہے جس میں ہر طرف سے بچے اور عورتیں آتی رہتی ہیں اور خلوت میسر نہیں آتی اور یہ بات صرف بیت الدُّعا پر ہی صادق آتی ہے۔ پس یہ مکتوب ۲۱ / مارچ ۱۹۰۳ء کے قریب کا ہے ۔ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سے ساری تفصیل بالا کا راقم نے ذکر کیا ہے۔ آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں ۔ لے بخاری کتاب الصلوۃ باب قول النبي جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا