مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 261
مکتوبات احمد ۲۶۱ جلد دوم کبھی کبھی چند قدم ہوا خوری بھی کر لیا کریں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ( ب ) نوٹ از مرتب : البدر بابت ۲۰ / مارچ ۱۹۰۳ء میں (صفحہ ۷۲ پر ) مرقوم ہے کہ بعد نماز جمعہ مورخه ۱۳/ مارچ ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس نے تجویز فرمایا کہ چونکہ بیت الفکر میں اکثر مستورات وغیرہ اور بچے بھی آ جاتے ہیں اور دعا کا موقعہ کم ملتا ہے اس لئے ایک ایسا حجرہ اس کے ساتھ تعمیر کیا جاوے جس میں صرف ایک آدمی کے نشست کی گنجائش ہو اور چار پائی بھی نہ بچھ سکے تا کہ اس میں کوئی اور نہ آ سکے اس طرح سے مجھے دعا کیلئے عمدہ وقت اور موقعہ مل سکے گا ۔ چنانچہ اس وقت مغربی جانب جو دریچہ ہے اس کے ساتھ حجرے کیلئے عمارت شروع ہوگئی ہے۔ البدر بابت ۳ را پریل ۱۹۰۳ء میں (صفحہ ۸۸ پر ) مرقوم ہے کہ ۲۰ مارچ کے البدر میں جس حجرہ دعائیہ کی ہم نے خبر دی ہے اس کا نام حضرت احمد مرسل یزدانی نے مسجد البیت و بیت الدعا تجویز فرمایا ہے۔ دار مسیح کے ایک چوبارہ کا نام بیت العافیہ ہے جو اس کے برآمدہ کی پیشانی پر مرقوم ہے۔ اس برآمدہ کی مغربی دیوار کے اندرونی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ سے یہ الفاظ وو 6 سیاہی سے مرقوم ہیں مسجد البیت ۴ رجون ۱۹۰۷ ء مطابق ۲۲ ربیع الثانی ۔۔۔۔۔۔ اس وقت سن ہجری ۱۳۲۵ تھا وہی مرقوم ہو گا لیکن اب پڑھا نہیں جاسکتا۔ نیز ربیع الثانی کی تاریخ ۲۲ اور ۲۳ دونوں پڑھی جاسکتی ہیں ۔ جنتری کی رُو سے ۲۲ چاہئے ۔اس سوال کا کہ دونوں میں سے کونسی مسجد البیت اس مکتوب میں مراد ہے۔ یہ جواب ہے کہ خاکسار مرتب کے نزدیک وہ مسجد البیت مراد ہے جسے بیت الدعا بھی کہتے ہیں ۔ گوالحکم نے اپنے پر چہ ۲۱ / مارچ ۱۹۰۳ء میں جہاں اس کی تکمیل کا ذکر کیا ہے اسے صرف بیت الدعا لکھا ہے ۔ غالبا اس کا یہ نام مسجد البیت نام پر غالب آ کر زیادہ متعارف و شائع ہو گیا ہو۔ چنانچہ سوائے البدر کے مذکورہ بالا حوالہ کے اس کا نام مسجد البیت سلسلہ کے لٹریچر میں کہیں مذکور نہیں اور نہ ہی ان صحابہ کرام کو اس کا علم ہے جن کو دا را مسیح میں حضور کے عصر سعادت میں قیام رکھنے کا موقعہ ملا نہ ہی حضور کے خاندان میں اس نام کا علم ہے ۔