مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 260

مکتوبات احمد ۲۶۰ جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ رات حضور کا والا نامہ پہنچا۔ خدا وند تعالیٰ سے امید کہ حضور کی فیض صحبت اور دعاؤں سے ہم میں خاص تبدیلی پیدا ہوگی ۔ خدا کرے کہ ہم حضور کے قدموں میں نیکی اور عمدگی سے بسر کریں اور ترقیات روحانی ہم کو حاصل ہوں ۔ راقم محمد علی خاں مکتوب نمبر ۵۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالی ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میں نے آپ کے اس خط پڑھنے کے وقت یہ محسوس کیا ہے کہ جس قد را مراض اور اعراض لاحق ہو گئے ہیں اکثر ان کی کثرت ہموم و عموم کا نتیجہ ہے۔ عجیب درد ناک آپ کا یہ خط ہے کہ جس سے دل پر لرزہ پڑتا ہے لیکن جب میں خدا تعالیٰ کے کاموں پر نظر کرتا ہوں تو اُس کی قدرتوں پر نظر کر کے دل امید سے بھر جاتا ہے۔ میں آپ کے لئے دعا تو کرتا رہا ہوں لیکن دعا کی حقیقت پر نظر کر کے جو اپنے اختیار میں نہیں ہے مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک میں نے دعا نہیں کی ہے۔ سو میں نے اس خلوت کے لئے ایک مسجد البیت بنائی ہے میں امید رکھتا ہوں کہ اس مسجد البیت میں مجھے اُس خاص حالت کا موقعہ مل جائے گا کیونکہ میرا یہ مکان کھلا مکان ہے جس میں ہر طرف سے بچے عورتیں آتی رہتی ہیں اور خلوت میسر نہیں آتی ۔ سواب میں آپ کے لئے انشاء اللہ خاص طور پر دُعا کروں گا ۔ آپ غموں کے سلسلہ کو حوالہ خدا کریں ۔ مجھے بھی امراض دامن گیر ہیں ۔ تین اوپر کے حصہ میں اور دو نیچے کے حصہ میں ۔ مگر میں امید کی قوت سے جیتا ہوں ۔ اگر امید نہ ہو تو ہم ایک دم میں مرجائیں ۔ سو آپ تسلی رکھیں ۔ جس طرح کوئی اپنے عزیز بچوں کے لئے دعا کرتا ہے ایسا ہی آپ کے لئے کروں گا۔ خدا تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اور عموم ہموم کے گرداب سے نجات بخشے ۔ آمین ۔