مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 248

مکتوبات احمد ۲۴۸ مکتوب نمبر ۴۶ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالیٰ ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ حال یہ ہے اگر چہ عرصہ میں سال سے متواتر اس عاجز کو جو الہام ہوا ہے اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی کا لفظ آ گیا ہے ۔ جیسا کہ یہ الہام هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ اور جیسا کہ یہ الہام جَرِيٌّ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ اور جیسا کہ یہ الہام ” دنیا میں ایک نبی آیا مگر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ نوٹ : ۔ ایک قرآت اس الہام کی یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور یہی قرآت براہین میں درج ہے اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دوسری قرأت درج نہیں کی گئی ۔ منہ ایسے ہی بہت سے الہام ہیں ۔ جن میں اس عاجز کی نسبت نبی یا رسول کا لفظ آیا ہے ۔ لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے جو اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت مراد ہے۔ جس سے انسان خود صاحب شریعت کہلاتا ہے۔ بلکہ رسول کے لفظ سے تو صرف اس قدر مراد ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا اور نبی کے لفظ سے صرف اس قدر مراد ہے کہ خدا سے علم پا کر پیشگوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا ۔ سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں ، اسلام میں فتنہ ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے ۔ اس لئے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں اور دلی ایمان سے سمجھنا چاہئے کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرختم ہو گئی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَلَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ کے اور اس آیت کا انکار کرنا یا استخفاف کی نظر یت کا انکار کرنا یا استخفاف کی نظر سے اس کو دیکھنا درحقیقت اسلام سے علیحدہ ہونا ہے۔ جو شخص انکار میں حد سے گزر جاتا ہے، جس طرح کہ وہ ایک خطرناک حالت میں ہے ایسا ہی وہ بھی خطرناک حالت میں ہیچو شیعوں کی طرح اعتقاد میں حد سے گزر جاتا ہے۔ لے تذکرہ صفحہ ۳۶ ۔ ایڈیشن چہارم ۲ تذکرہ صفحہ ۶۳ ۔ ایڈیشن چہارم سے تذکرہ صفحہ ۸۱ ایڈیشن چہارم کے الاحزاب : ۴۱