مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 249
مکتوبات احمد ۲۴۹ جلد دوم جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرختم کر دیا ہے اور ہم محض دین اسلام کے خادم بن کر دنیا میں آئے اور دنیا میں بھیجے گئے نہ اس لئے کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور دین بناویں۔ ہمیشہ شیاطین کی راہ زنی سے اپنے تئیں بچانا چاہئے اور اسلام سے سچی محبت رکھنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو پھیلانا چاہئے ۔ ہم خادم دین اسلام ہیں اور یہی ہمارے آنے کی علت غائی ہے اور نبی اور رسول کے لفظ استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں ۔ رسالت لغت عرب میں بھیجے جانے کو کہتے ہیں اور نبوت یہ ہے کہ خدا سے علم پا کر پوشیدہ باتوں یا پوشیدہ حقائق اور معارف کو بیان کرنا ۔ سو اس حد تک مفہوم کو ذہن میں رکھ کر دل میں اس کے معنی کے موافق اعتقاد کرنا مذموم نہیں ہے ۔ مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں ۔ یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں ۔ یا نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس لئے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں ۔ کیونکہ ہماری کوئی کتاب بجز قرآن شریف نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بحر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے۔ سو دین کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ ہمیں بجز خادم اسلام ہونے کے اور کوئی دعوی بالمقابل نہیں ہے اور جو شخص ہماری طرف یہ منسوب کرے، وہ ہم پر افتراء کرتا ہے ۔ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ فیض برکات پاتے ہیں اور قرآن کریم کے ذریعہ سے ہمیں فیض معارف ملتا ہے۔ سومناسب ہے کہ کوئی شخص اس ہدایت کے خلاف کچھ بھی دل میں نہ رکھے ورنہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا جواب دہ ہوگا ۔ اگر ہم اسلام کے خادم نہیں ہیں تو ہمارا سب کا روبار عبث اور مردود اور قابل مواخذہ ہے۔ زیادہ خیریت ہے۔ ی راگست ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرز اغلام احمد از قادیان نوٹ :۔ اس مکتوب میں حضور نے اپنے دعوئے نبوت و رسالت کی حقیقت کو خوب