مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 197

مکتوبات احمد ۱۹۷ جلد دوم سے فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ میں آپ کو از راہ تو ڈر و مہربانی و رحم اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اکثر فیصلے دنیا دد میں قیل و قال سے ہی ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ صرف باتوں کے ثبوت یا عدم ثبوت کے لحاظ سے ایک شخص کو عدالت نہایت اطمینان کے ساتھ پھانسی دے سکتی ہے اور ایک شخص کو تہمت خون سے بری کر سکتی ہے۔ واقعات کے ثبوت یا عدم ثبوت پر تمام مقدمات فیصلہ پاتے ہیں ۔ کسی فریق سے یہ سوال نہیں ہوتا کہ کوئی آسمانی نشان دکھلاوے تب ڈگری ہو گی یا فقط اس صورت میں مقدمہ ڈسمس ہوگا کہ جب مدعا علیہ سے کوئی کرامت ظہور میں آوے۔ بلکہ اگر کوئی مدعی بجائے واقعات کے ثابت کرنے کے ایک سوٹی کا سانپ بنا کر دکھلا دیوے یا ایک کاغذ کا کبوتر بنا کر عدالت میں اُڑا دے تو کوئی حاکم صرف ان وجوہات کے رو سے اس کو ڈگری نہیں دے سکتا ۔ جب تک با قاعدہ صحت دعوی ثابت نہ ہو اور واقعات پر کھے نہ جائیں ۔ پس جس حالت میں واقعات کا پرکھنا ضروری ہے اور میرا یہ بیان ہے کہ میرے تمام دعاوی قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور اولیاء گزشتہ کی پیشگوئیوں سے ثابت ہیں اور جو کچھ میرے مخالف تاویلات سے اصل مسیح کو دوبارہ دنیا میں نازل کرنا چاہتے ہیں ، نہ صرف عدم ثبوت کا داغ ان پر ہے بلکہ یہ خیال محال بہ بداہت قرآن کریم کی نصوص بینہ سے مخالف پڑا ہوا ہے اور اس کے ہریک پہلو میں اس قدر مفاسد ہیں اور اس قدر خرابیاں ہیں کہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص ان سب کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر پھر اس کو بدیہی البطلان نہ کہہ سکے۔ تو پھر ان حقائق اور معارف اور دلائل اور براہین کو کیونکر فضول قیل و قال کہہ سکتے ہیں ۔ قرآن کریم بھی تو بظاہر قیل و قال ہی ہے جو عظیم الشان معجزہ اور تمام معجزات سے بڑھ کر ہے ۔ معقولی ثبوت تو اول درجہ پر ضروری ہوتے ہیں بغیر اس کے نشان پیچ ہیں ۔ یادر ہے کہ جن ثبوتوں پر مدعا علیہ کو عدالتوں میں سزائے موت دی جاتی ہے وہ ثبوت ان ثبوتوں سے کچھ بڑھ کر نہیں ہیں جو قرآن اور حدیث اور اقوال اکابر اور اولیاء کرام سے میرے پاس موجود ہیں ۔ مگر غور سے دیکھنا اور مجھ سے سننا شرط ہے ۔ میں نے ان ثبوتوں کو صفائی کے ساتھ کتاب آئینہ کمالات اسلام میں لکھا ہے اور کھول کر دکھلایا ہے کہ جو لوگ اس انتظار میں اپنی عمر اور وقت کو کھوتے ہیں کہ حضرت مسیح پھر اپنے خاکی قالب کے ساتھ دنیا میں آئیں گے وہ کس قدر منشاء کلام الہی سے دُور جا پڑے ہیں اور کیسے چاروں طرف کے فسادوں اور خرابیوں نے ان کو گھیر لیا ہے ۔ میں نے اس کتاب میں ثابت کر دیا ہے کہ مسیح موعود کا کا ۔