مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 196

مکتوبات احمد ۱۹۶ جلد دوم ملزم اور رسوا کرے۔ کوئی دن یا رات کم گزرتی ہے جو مجھ کو اطمینان نہیں دیا جاتا۔ یہی خط لکھتے لکھتے یہ الہام ہوا ۔ يَجِيءُ الْحَقُّ وَيُكْشَفُ الصِّدْقُ وَيَخْسَرُ الْخَاسِرُونَ - يَأْتِي قَمَرُ الْأَنْبِيَاءِ وَامْرُكَ يَتَأَتَى - إِنَّ رَبَّكَ فَعَالٌ لِمَا يُرِيدُ یعنی حق ظاہر ہوگا اور صدق کھل جائے گا اور جنہوں نے بدظنیوں سے زیان اُٹھایا، وہ ذلت اور رسوائی کا زیان بھی اٹھائیں گے ۔ نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام ظاہر ہو جائے گا ۔ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ مگر میں نہیں جانتا یہ کب ہوگا۔ اور جو شخص جلدی کرتا ہے خدائے تعالیٰ کو اس کی ایک ذرہ بھی پرواہ نہیں ۔ وہ غنی ہے، دوسرے کا محتاج نہیں ۔ اپنے کاموں کو حکمت اور مصلحت سے کرتا ہے اور ہر ایک شخص کی آزمائش کر کے پیچھے سے اپنی تائید دکھلاتا ہے اگر پہلے سے نشان ظاہر ہوتے تو صحابہ کبار اور اہل بیت کے ایمان اور دوسرے لوگوں کے ایمانوں میں فرق کیا ہوتا ؟ خدا تعالیٰ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی عزت ظاہر کرنے کے لئے نشان دکھلانے میں کچھ توقف ڈال دیتا ہے تا لوگوں پر ظاہر ہو کہ خدائے تعالیٰ کے خاص بندے نشانوں کے محتاج نہیں ہوتے اور تا اُن کی فراست اور ڈور بینی سب پر ظاہر ہو جائے اور ان کے مرتبہ عالیہ میں کسی کو کلام نہ ہو ۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے بہتر آدمی اوائل میں اس بد خیال سے پھر گئے اور مرتد ہو گئے کہ آپ نے ان کو کوئی نشان نہیں دکھلایا۔ ان میں سے بارہ قائم رہے اور بارہ میں سے پھر ایک مرتد ہو گیا اور جو قائم رہے انہوں نے آخر میں بہت سے نشان دیکھے اور عنداللہ صادق شمار ہوئے ۔ مکرر میں آپ کو کہتا ہوں کہ اگر آپ چالیس روز تک میری صحبت میں آجا ئیں تو مجھے یقین ہے کہ میرے قرب وجوار کا اثر آپ پر پڑے۔ اور اگرچہ میں عہد کے طور پر نہیں کہہ سکتا مگر میرا دل شہادت دیتا ہے کہ کچھ ظاہر ہو گا جو آپ کو کھینچ کر یقین کی طرف لے جائے گا ۔ اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ ہونے والا ہے مگر ابھی خدا تعالیٰ اپنی سنت قدیمہ سے دو گروہ بنانے چاہتا ہے۔ ایک وہ گروہ جو نیک ظنی کی برکت سے میری طرف آتے جاتے ہیں ۔ دوسرے وہ گروہ جو بدظنی کی شامت سے مجھ سے دور پڑتے جاتے ہیں ۔ اور میں نے آپ کے اس بیان کو افسوس کے ساتھ پڑھا جو آپ فرماتے ہیں کہ مجرد قیل و قال ا تذکرہ صفحہ ۱۷۴۔ ایڈیشن چہارم