مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 191

مکتوبات احمد ۱۹۱ جلد دوم کچھ نہیں کہ دین کو ایک کھیل سمجھ رکھا ہے ۔ انسان خدا تعالیٰ سے نشان طلب کرتا ہے اور اپنے دل میں رکھا ہے۔ مقرر نہیں کرتا کہ نشان دیکھنے کے بعد اس کی راہ میں کونسی جانفشانی کروں گا اور کس قدر دنیا کو چھوڑ دوں گا اور کہاں تک خدا تعالیٰ کے مامور بندہ کے پیچھے ہو چلوں گا ۔ بلکہ غافل انسان ایک تماشا کی طرح نشان کو سمجھتا ہے ۔ حواریوں نے حضرت مسیح سے نشان مانگا تھا کہ ہمارے لئے مائدہ اُترے تا بعض شبہات ہمارے جو آپ کی نسبت ہیں دور ہو جائیں ۔ پس اللہ جلشانۂ قرآن کریم میں حکایتاً حضرت عیسی کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میں اس نشان کو ظاہر کروں گا۔ لیکن پھر اگر کوئی شخص مجھ کو ایسا نہیں مانے گا کہ جو حق ماننے کا ہے تو میں اس پر وہ عذاب نازل کروں گا جو آج تک کسی پر نہیں کیا ہوگا ۔ تب حواری اس بات کو سن کر نشان مانگنے سے تائب ہو گئے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قوم پر ہم نے عذاب نازل کیا ہے، نشان دکھلانے کے بعد کیا ہے۔ اور قرآن کریم میں کئی جگہ فرماتا ہے کہ نشان نازل ہونا عذاب نازل ہونے کی تمہید ہے ۔ وجہ یہ کہ جو شخص نشان مانگتا ہے اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ نشان دیکھنے کے بعد یک لخت دنیا سے دست بردار ہو جائے اور فقیرانہ دلق پہن لے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت دیکھ کر اس کا حق ادا کرے ۔ لیکن چونکہ غافل انسان اس درجہ کی فرمانبرداری کر نہیں سکتا اس لئے شرطی طور پر نشان دیکھنا اس کے حق میں وبال ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ نشان کے بعد خدائے تعالیٰ کی حجت اس پر پوری ہو جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر پھر بھی کامل اطاعت کے بجالانے میں کچھ کسر رکھے تو غضب الہی اُس پر مستولی ہو جاتا ہے اور اس کو نابود کر دیتا ہے۔ تیسرا سوال آپ کا استخارہ کے لئے ہے جو درحقیقت استخبارہ ہے۔ پس آپ پر واضح ہو کہ جو مشکلات آپ نے تحریر فرمائی ہیں در حقیقت استخارہ میں ایسی مشکلات نہیں ہیں ۔ میری مراد میری تحریر میں صرف اس قدر ہے کہ استخارہ ایسی حالت میں ہو کہ جب جذبات محبت اور جذبات عداوت کسی تحریک کی وجہ سے جوش میں نہ ہوں ۔ مثلاً ایک شخص کسی شخص سے عداوت رکھتا ہے اور غصہ اور عداوت کے اشتعال میں سو گیا ہے ۔ تب وہ شخص جو اس کا دشمن ہے۔ اس کو خواب میں کتے یاسور کی شکل میں نظر آیا ہے یا کسی اور درندہ کی شکل میں دکھائی دیا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ شائد در حقیقت یہ شخص عند اللہ کتا یا سو رہی ہے۔ لیکن یہ خیال اس کا غلط ہے کیونکہ جوش عداوت میں جب دشمن خواب