مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 190

مکتوبات احمد ۱۹۰ جلد دوم حضرت عزت میں اس کی عزت کیا۔ مجھے در حقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کو سنا اور اس میں غور کی تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہو گئے ۔ میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کے لئے مجھے حکم بنا تا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آ گیا ہے۔ مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پاسکتے ۔ جو اُن راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا اور جو اللہ جل شانہ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا۔ اس کی خوشبو ان کو آگئی ۔ انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ وجلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے۔ باکمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرا یہ میں اس کو پاوے اور شناخت کر لیوے۔ مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زیر کی کسی کو دوں ۔ ایک ہی ہے جو دیتا ہے۔ وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے ۔ انہیں باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں ۔ اور یہی باتیں ان کے لئے جن کے دلوں میں کبھی ہے زیادہ ترکجی کا موجب ہو جاتی ہیں ۔ اب میں جانتا ہوں کہ نشانوں کے بارے میں میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ بات صحیح اور راست ہے کہ اب تک تین ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ وہ امور میرے لئے خدا تعالیٰ سے صادر ہوئے ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہیں اور آئندہ ان کا دروازہ بند نہیں ۔ ان نشانوں کے لئے ادنی ادنیٰ میعادوں کا ذکر کرنا یہ ادب سے دُور ہے۔ خدا تعالیٰ غنی ، بے نیاز ہے ۔ جب مکہ کے کا فر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے کہ نشان کب ظاہر ہوں گے تو خدا تعالیٰ نے کبھی یہ جواب نہ دیا کہ فلاں تاریخ نشان ظاہر ہوں گے ۔ کیونکہ یہ سوال ہی بے ادبی سے پُر تھا اور گستاخی سے بھرا ہوا تھا ۔ انسان اس نابکار اور بے بنیاد دنیا کے لئے سالہا سال انتظاروں میں وقت خرچ کر دیتا ہے۔ ایک امتحان دینے میں کئی برسوں سے تیاری کرتا ہے وہ عمارتیں شروع کرا دیتا ہے جو برسوں میں ختم ہوں ۔ وہ پودے باغ میں لگاتا ہے جن کا پھل کھانے کے لئے ایک ڈور زمانہ تک انتظار کرنا ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ کی راہ میں کیوں جلدی کرتا ہے ۔ اس کا باعث بجز اس کے اور