مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 192
مکتوبات احمد ۱۹۲ جلد دوم میں نظر آوے تو اکثر درندوں کی شکل میں یا سانپ کی شکل میں نظر آتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ میں اس یہ نتیجہ نکالنا در حقیقت وہ بد آدمی ہے کہ جو ایسی شکل میں ظاہر ہوا ، ایک غلطی ہے۔ بلکہ چونکہ دیکھنے والے کی طبیعت اور خیال میں وہ درندوں کی طرح تھا اس لئے خواب میں درندہ ہو کر اس کو دکھا دیا۔ سو میرا مطلب یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا جذبات نفس سے خالی ہو اور ایک آرام یافتہ اور سرا سر و بحق دل سے محض اظہار حق کی غرض سے استخارہ کرے۔ میں یہ عہد نہیں کر سکتا کہ ہر ایک شخص کو ہر یک حالت نیک یا بد میں ضرور بد میں ضرور خواب آجائے گی ۔ لیکن آپ کی نسبت میں کہتا ہوں کہ اگر آپ چالیس روز تک روجق ہو کر بشرائط مندرجہ نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپ کے لئے دعا کروں گا ۔ کیا خوب ہو کہ یہ استخارہ میرے روبرو ہو۔ تا میری توجہ زیادہ ہو ۔ آپ پر کچھ بھی مشکل نہیں ۔ لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر ۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ۔ سچی خواب اپنی سچائی کے آثار آپ ظاہر کر دیتی ہے وہ دل پر ایک ٹور کا اثر ڈالتی ہے اور میخ آہنی کی طرح اندر گھب جاتی ہے اور دل اس کو قبول کر لیتا ہے اور اس کی نورانیت اور ہیبت بال بال پر طاری ہو جاتی ہے۔ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر آپ میرے رو برو اور میری ہدایت اور تعلیم کے موافق اس کام میں مشغول ہوں تو میں آپ کے لئے بہت کوشش کروں گا کیونکہ میرا خیال آپ کی نسبت بہت نیک ہے اور خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپ کو ضائع نہ کرے اور رشد اور سعادت میں ترقی دے۔ اب میں نے آپ کا وقت بہت لے لیا ختم کرتا ہوں ۔ والسلام على من اتبع الهدى۔ آپ کا مکر رخط پڑھ کر ایک بات کچھ زیادہ تفصیل کی محتاج معلوم ہوئی اور وہ یہ ہے کہ استخارہ کے لئے ایسی دعا کی جائے کہ ہر یک شخص کا استخارہ شیطان کے دخل سے محفوظ ہو ۔ عزیز من! یہ بات خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے برخلاف ہے کہ وہ شیاطین کو ان کے مواضع مناسبہ سے معطل کر دیوے۔ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے ۔ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَمَنَّى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ أَيْتِهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ، یعنی ہم نے کوئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ اس کی یہ حالت نہ ہو کہ جب ا الحج: ۵۳