مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 10
مکتوبات احمد ۱۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ از عاجز عائذ بالله الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مکرم و مخدوم حکیم نورالدین صاحب سلمه تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ حال صدمہ وفات دول دولخت جگر آں مخدوم و علالت طبیعت پسر سوم سُن کر موجب حزن و اندوہ ہوا ۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ آپ کو صدمہ گزشتہ کی نسبت صبر عطا فرما دے اور آپ کے قرۃ العین فرزند سوم کو جلد تر شفا بخشے ۔ انشاء اللہ القدیر یہ عاجز آپ کے فرزند کی شفا کیلئے دعا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو اپنے فضل و کرم سے ایسی دعا کی توفیق بخشے جو اپنی جميع شرائط کی جامع ہو۔ یہ امر کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اسی کی مرضات حاصل کرنے کیلئے اگر آپ خفیہ طور سے اپنے فرزند دلبند کی شفا حاصل ہونے پر اپنے دل میں کچھ نذر مقرر کر رکھیں تو عجیب نہیں کہ وہ نکتہ نو از جو خود اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے آپ کے اس صدق دلی کو قبول فرما کر ورطۂ عموم سے آپ کو مخلصی عطا فرماوے ۔ وہ اپنے مخلص بندوں پر ان کے ماں باپ سے بہت زیادہ رحم کرتا ہے ۔ اس کو نذروں کی کچھ حاجت نہیں مگر بعض اوقات اخلاص آدمی کا ایسی راہ سے متحقق ہوتا ہے ۔ استغفار اور تضرع اور تو بہ بہت ہی عمدہ چیز ہے اور بغیر اس کے سب نذریں پیچ اور بے سود ہیں اپنے مولیٰ پر قوی امید رکھو اور اس کی ذات بابرکات کو سب سے زیادہ پیارا بناؤ کہ وہ اپنے قومی الیقین بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور اپنے سچے رجوع دلانے والوں کو ورطۂ عموم میں نہیں چھوڑتا۔ رات کے آخری پہر میں اُٹھو اور وضو کرو اور چند دوگانہ اخلاص سے بجالا ؤ اور دردمندی اور عاجزی سے یہ دعا کرو۔ اے میرے محسن اور میرے خدا! میں ایک تیرا ناکارہ بندہ پر معصیت اور پُر غفلت ہوں ۔ تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا ۔ تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے مستمتع کیا ۔ سو اب بھی مجھ نالائق اور پُر گناہ پر رحم کر اور میری بیبا کی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے اور کوئی چارہ گر نہیں۔ آمین ثم آمین