مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 11

مکتوبات احمد 11 جلد دوم مگر مناسب ہے کہ بروقت اس دعا کے فی الحقیقت دل کامل جوش سے اپنے گناہ کا اقرار اور اپنے مولی کے انعام اکرام کا اعتراف کرے کیونکہ صرف زبان سے پڑھنا کچھ چیز نہیں جوش دلی چاہئے اور رقت اور گریہ بھی ۔ یہ دعا معمولات اس عاجز سے ہے اور در حقیقت اسی عاجز کے مطابق حال ہے ۔ ☆ ۲۰ را گست ۱۸۸۵ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ نمبرا: اس مکتوب پر حضرت حکیم الامت کا نوٹ ہے ۔ یہ لڑکا اس وقت اس مرض سے بیچ گیا تھا ۔ پھر دوبارہ سُعال و ام الصبیان میں انتقال کر گیا ۔ اِنَا بِفِرَاقِهِ لَمَحْزُونَ وَ ادْعُو اللَّهَ بَدْلَهُ نورالدین ۱٫۲ سوج ۱۹۴۳ بکرمی نوٹ نمبر ۲: اس مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا مرقوم ہے جو آپ کے مسیح معمولات سے تھی اور نیز آپ نے قبول ہونے والی دعا کا راز بتایا ہے۔ اس دعا کو پڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اندرون خانہ لائف پر ایک قسم کی روشنی پڑتی ہے اور یہ ان ایام کی بات ہے کہ آپ دنیا میں شہرت یافتہ نہ تھے۔ آپ کا کوئی دعوی نہ تھا۔ کسی سے بیعت بھی نہ لیتے تھے بلکہ ایک گوشہ گزین کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ پر کس قدر یقین اور قبولیت دعا پرکس قدر بھروسہ تھا۔ اور آپ کے اعمال شب کی حقیقت بھی عیاں ہے نیز حضرت حکیم الامت کا نوٹ بتا تا ہے کہ وہ بچہ اس وقت بچ گیا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ تھا۔ خدا تعالیٰ نے اس وقت تقدیر کو ٹال دیا ۔ یہ لڑکا فضل الہی نام حضرت حکیم الامت کی پہلی بیوی میں سے تھا۔ (عرفانی ) الحکم ۲۴ فروری ۱۹۰۰ ء صفحه ۶۰۵ ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆