مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 120
مکتوبات احمد ۱۲۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۸۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ علالت طبع کے معلوم کرنے سے طبیعت بہت مترڈ داور متفکر ہوئی اور غایت درجہ کا قلق اور اضطراب ہے۔ امید کہ بہت جلد مفصل حالات خیریت آیات سے مطلع و مطمئن فرماویں۔ خدا تعالیٰ آنمکرم کو صحت اور عافیت کامل سے رکھ کر آپ کے ہاتھ سے سالہائے دراز تک خدمت دین لیتا رہے اور ایک عالم کو آپ سے متمتع اور مستفیض فرما دیں۔ حالات مزاج سامی سے ضرور جلد اطلاع بخشیں اور مجھے مفصل معلوم نہیں ہوا کہ کسی قسم کی بیماری تھی ۔ خدا تعالیٰ جلد اس سے شفا بخشے ۔ اس جگہ کا حال یہ ہے کہ لوگوں کے زور دینے سے مولوی محمد حسین صاحب بحث کے لئے تشریف لائے ہوئے ہیں اور ۲۰ جولائی سے ہر روز تحریری بحث ہو رہی ہے۔ ابھی تمہیدی مقدمات میں بحث چلی آتی ہے ۔ فریقین کی تحریریں پانچ جزو تک پہنچ چکی ہیں ۔ ان کی طرف سے سوال یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت کو واجب العمل سمجھتے ہو یا نہیں؟ اس طرف سے جو واقعی اور تحقیقی جواب ہے، دیا گیا ہے لیکن اس بحث کو انہوں نے بہت طول دے دیا ہے اور اس طرف سے بھی مناسب سمجھا گیا ہے کہ جہاں تک طول دیتے جائیں اس کا شافی و کافی جواب دیا جاوے ۔ خدا جانے یہ بحث کب اور کس وقت ختم ہو ۔ اب مجھے زیادہ تر خیال آپ کی طبیعت کی طرف ہے اور کسی بات کے لکھنے کی طرف دل توجہ نہیں کرتا ۔ امید کہ جہاں تک جلد ممکن ہو حالت مزاج سے مسرور الوقت فرماویں۔ باقی سب خیریت ہے۔ ازالہ اوہام ابھی طبع ہو کر نہیں آیا۔ ۲۲ جولائی ۱۸۹۱ء والسلام خاکسار غلام احمد از لود ها نه محله اقبال گنج